’پاکستان کا طالبان پر پہلے جیسا اثر و رسوخ نہیں رہا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر سعد نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی دعوت کا خیرمقدم کرے گا تاہم پاکستان کا طالبان کی قیادت پر اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے۔
افغانستان میں پاکستان کے سابق ملٹری اتاشی بریگیڈیئر سعد نےکہا ہے کہ طالبان سربراہ ملا منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ کم ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملا منصور کی ہلاکت کے بعد اسحاق زئی گروپ طالبان پر حاوی ہو چکا ہے اور وہ زیادہ تر ہلمند میں منتقل ہو چکے ہیں۔
انھوں نےکہا موجودہ طالبان کی قیادت پر پاکستان کا اثر و رسوخ نہ صرف کم ہوا ہے بلکہ اب تو وہ ملا منصور کی ہلاکت کا الزام بھی پاکستان پر دھرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بریگیڈیئر سعد نےکہا کہ وہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہے کہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے لیکن پاکستان اب طالبان پر پریشر ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا طالبان کا ملٹری کمیشن ہلمند میں منتقل ہو چکا ہے اور اگر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے تشدد کی سطح کو نیچے لانا ہے تو ایسا طالبان کے ملٹری کمیشن کے سربراہ ابراھیم ہی کر سکتے ہیں جو پاکستان میں نہیں بلکہ ہلمند میں موجود ہیں۔
افغان صدر کے طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرنے کے اعلان پر پاکستان کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں بریگیڈیئر سعد نے کہا کہ پاکستان اس کا یقیناً خیرمقدم کرے گا ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے طالبان شوری کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں اور وہ اگر افغانستان کی حکومت کا حصہ بن جائیں تو پاکستان تو خوش ہو گا اور اس طرح اس کے ایران و ہند کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں خدشات بھی کم ہوں گے۔
دوسری طرف بی بی سی کی پشتو سروس کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار داؤد اعظمی کا کہنا ہے کہ طالبان ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ مسئلے کے حل کے لیے بات چیت ہونا ضروری ہے، لیکن ان کی شرط یہ رہی ہے کہ مذاکرات امریکہ کے ساتھ ہوں۔
انھوں نے کہا طالبان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت بے اختیار ہے اور تمام اختیارات امریکہ کے پاس ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے صدر کی پیشکش کے وقت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں داؤد اعظمی نے کہا جب سے امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ آئی ہے افغانستان میں امریکہ کی فوجی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں اور طالبان پر پریشر بڑھ گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ طالبان کے حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
داؤد اعظمی نے کہا کہ امریکہ کے پاکستان، ایران، روس سےخراب تعلقات کا افغانستان کی صورتحال پر منفی اثر ہو رہا ہے جس سے افغانستان کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا امریکہ اور افغانستان کو احساس ہے کہ لڑائی کے ذریعے طالبان کا خاتمہ ممکن نہیں اور طالبان کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے افغانستان کی حکومت پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
انھوں نےکہا طالبان پر ملٹری آپریشنز کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور دوسری طرف انھیں بات چیت کی پیشکش کر دی گئی ہے۔








