قندھار میں نیٹو قافلے پر خود کش حملہ، ہلاکتوں کا خدشہ

افغانستان

،تصویر کا ذریعہAFP

افغانستان کے صوبے قندھار میں حکام کے مطابق غیر ملکی فوجی قافلے پر طالبان کے ایک خود کش کار بم دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

قندھار پولیس کے ترجمان ضیا درانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ قندہار کے علاقے دامن سے گزرنے والے نیٹو کے فوجی قافلے کو سہ پہر میں کار بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

نیٹو حکام نے ایک بیان میں دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فوجی قافلے پر حملہ ہوا اور اس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں لیکن فوری طور پر واقعے کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ایک عینی شاید کے مطابق جائے حادثہ پر موجود ایک گاڑی سے تین لاشیں نکالی گئیں۔

ایک دکاندار محمد عظیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا 'حملے کے بعد ایک غیر ملکی فوجی گاڑی میں آگ لگ گئی، جس کے بعد ہیلی کاپٹرز موقع پر پہنچے اور گاڑی سے تین لاشوں کو نکالا اور روانہ ہو گئے، قافلے میں تین بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں۔‘

اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں غیر ملکی اور مقامی فورسز کو نشانہ بنانے والے افغان طالبان نے خود کش دھماکے کے فوری بعد ایک پیغام میں اس کی ذمہ داری قبول کی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز افغانستان کے شہر ہیرات میں شیعہ فرقے کی ایک مسجد پر ہونے والے حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے حال ہی میں شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قندھا کا شمار عام شہریوں کے لیے خطرناک ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔