کیوں مطلوب ہیں میکسیکو کو یہ انڈین ’بچے‘؟

فنکار بچے

،تصویر کا ذریعہMexico Embassy

،تصویر کا کیپشنمیکسیکو اولمپکس کے بعد سے ان ’بچوں‘ کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے

میکسیکو کی حکومت کو آٹھ ہندوستانی ’بچوں‘ کی تلاش ہے جن کے بارے میں حکام کا خیال ہے کہ ان میں سے تین نے میکسیکو کا سفر بھی کیا تھا۔ مگر پچاس سال پہلے!

لیکن اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ہے۔ حکومت کو صرف ان کے نام اور عمریں معلوم ہیں اور اب وہ تلاش کا دائرہ پھیلا رہی ہے۔

لیکن یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ بہت وقت گزر چکا ہے۔

پینٹنگ

،تصویر کا ذریعہMexico Embassy

،تصویر کا کیپشنایرا سچدیوا کی بنائی ہوئی پینٹنگ

مجرم نہیں مصور!

دلی میں میکسیکو کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ 50 برس پہلے 1968 میں میکسییکو سٹی میں جب اولمپک گیمز ہوئے تھے تو ثقافتی پروگراموں میں مصوری کا ایک میلہ بھی شامل تھا جس میں دنیا بھر سے تقریباً 1800 بچوں نے حصہ لیا تھا۔ ان میں یہ آٹھ ہندوستانی بچے بھی شامل تھے۔

پینٹنگ

،تصویر کا ذریعہMexico Embassy

،تصویر کا کیپشنایرا سچدیوا کی بنائی ہوئی پینٹنگ

یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اولمپک گیمز ہسپانوی زبان بولنے والے کسی ملک میں کرائے جا رہے تھے۔

بچوں نے جو پینٹنگز بنائی تھیں انہیں میکسیکو سٹی کے سب سے مشہور مقامات پر آویزاں کیا گیا تھا۔ میلے کا عنوان تھا ’ورلڈ آف فرینڈ شپ‘ یا دوستی کی دنیا۔

اب ان میں سے کچھ ہی پینٹنگز بچی ہیں اور میکسیکو کی حکومت ان کی نمائش کرنا چاہتی ہے۔ اس پراجیکٹ کو ’دوستی کی دنیا، پچاس سال بعد‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اور ان ’جواں سال‘ مصوروں کو تلاش کرنے کی ذمہ داری دنیا بھر میں میکسیکو کے سفارت خانوں کو دی گئی ہے۔

پینٹنگ

،تصویر کا ذریعہMexico Embassy

،تصویر کا کیپشنجیتندر نوتی لال کی ایک پینٹنگ کا عکس

دلی میں سفارت خانے کا خیال ہے کہ ان بچوں نے میلے میں ’شنکرز انٹرنیشنل چلڈرنز آرٹ کمپٹیشن‘ کے ذریعہ حصہ لیا ہوگا۔ یہ مقابلے کیشو شنکر پلائی نے شروع کرایا تھا۔ وہ ایک کارٹونسٹ تھے اور انھوں نے دلی کا مشہور شنکر ڈال (گڑیا) میوزیم بھی قائم کیا تھا۔

تین بچے ممکنہ طور پر انڈین دستے کے ساتھ میکسیکو بھی گئے تھے جہاں انہوں نے شہر کی مشہور سڑکوں کے کنارے دیواروں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔

پینٹنگ

،تصویر کا ذریعہMexico Embassy

،تصویر کا کیپشنسنت کاندو کا بنایا ہوا فن پارہ

سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اسے ان میں سے ایک مصور کا پتہ لگانے میں کامیابی ملی تھی لیکن وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

جتیندر نونیت لال پاریکھ کی پینٹنگ ’مارکیٹ‘ (بازار) میلے میں شامل کی گئی تھی اور اس وقت ان کی عمر 15 برس تھی۔

اگر حکومت ان بچوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو انہیں اپنی پینٹنگز کی ایک فریم شدہ نقل اور سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا۔