واجپئی: اعتدال پسند اور پاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
اٹل بہاری واجپئی، ایک معمولی شاعر اور غیرمعمولی رہنما تھے جن کی زندگی ایک معمہ ہی رہی۔
وہ تین مرتبہ انڈیا کے وزیراعظم بنے اور سنہ 2004 میں بی جے پی کی غیر متوقع شکست کے بعد ان کی سیاسی زندگی کا سفر اپنے اختتام کو پہنچنا شروع ہوگیا تھا۔
انھوں نے 2005 میں انتخابی سیاست سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور لمبی علالت کے بعد آج 93 برس کی عمر میں دلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آخری سانس لی۔
تو کیا وہ کٹر ہندوتوا کے علم بردار تھے یا ایک ایسے اعتدال پسند رہنما جو اپنی پارٹی کے سخت گیر نظریات کے باوجود وہ راستہ اختیار کرنا چاہتے تھے جس پر سب کو ساتھ لے کر چلنے کی گنجائش ہو؟
اس سوال کا واضح جواب تو شاید کسی کے پاس نہ ہو۔ رائے نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہے۔ بہت سے لوگ انھیں ہندو قوم پرستوں کا مکھوٹا کہتے تھے، اصل چہرہ لال کرشن اڈوانی، جنھوں نے رام مندر کی متنازع اور خون ریز تحریک کے ذریعے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچانا، اور اعتدال پسندی کا مکھوٹا یا ’ماسک‘ پہننے والے واجپئی، جن کے نام پر بہت سی جماعتیں بی جے پی کی قیادت والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے لیے تیار ہوئیں۔
لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ آزاد ہندوستان کے سب سے قد آور رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
پاکستان سے دوستی

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی اور ایک بس میں سوار ہوکر لاہور گئے۔ اس کے فوراً بعد کارگل کی لڑائی ہوئی اور واجپئی اور ان کی حکومت کو ملک کی سرحدوں کی نگہبانی میں ناکام رہنے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن صدائے سرحد کے نام سے اس بس سروس کا سفر آج بھی جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واجپئی کے دور ہی میں جنرل پرویز مشرف سربراہی اجلاس کے لیے آگرہ آئے لیکن مذاکرات ناکام ہوگئے۔ بعد میں جنرل مشرف نے کہا کہ دونوں ملک ایک اعلامیے پر دستخط کرنے والے تھے لیکن لال کرشن اڈوانی کی وجہ سے اسے حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔ لیکن اڈوانی نے اپنی کتاب میں کہا کہ پاکستان پالیسی پر واجپئی سے ان کے کوئی اختلافات نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
واجپئی کے دور میں ہی ہندوستان کی پارلیمان پر حملہ ہوا اور دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔ لیکن پھر انھوں نے ہی لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں دس سال سے زیادہ عرصے تک سرحدوں پر بڑی حد تک خاموشی رہی۔
واجپئی ہی وزیراعظم تھے جب انڈیا کے ایک طیارے کو ہائی جیک کرکے کابل لے جایا گیا اور مسافروں کو رہا کرانے کے لیے انڈیا نے مولانا مسعود اظہر سمیت تین قیدیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
انہی کے دور اقتدار میں ہندوستان نے جوہری دھماکے کیے اور مغربی دنیا نے انڈیا کے خلاف پابندیاں عائد کیں۔ اس کے چند دن بعد ہی پاکستان نے بھی جواب میں جوہری آزمائشی دھماکے کیے اور دونوں ملک اعلان شدہ جوہری طاقتوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔
واجپئی کشمیر گئے تو کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت کے دائرے میں حل کیا جائے گا، کشمیریوں کو ان کا وعدہ آج بھی یاد ہے۔
بے مثال مقرر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹل بہاری واجپئی کو شاعری کا شوق تھا لیکن وہ سب سے زیادہ تقریر کرنے کے اپنے بے مثال انداز کے لیے مشہور تھے۔ وہ بولنے کھڑے ہوتے تو لوگ خاموشی سے سنتے تھے۔ بہت سے لوگ کہتے کہ دوران تقریر دو الفاظ کے بیچ میں وہ اتنی دیر کے لیے خاموش ہو جاتے کہ لگتا کہ جملہ پورا کریں گے بھی یا نہیں!
لیکن حالات کتنے بھی کشیدہ ہوں اور موضوع کتنا بھی حساس، انھوں نے کبھی الفاظ کے انتخاب میں تہذیب کا دائرہ پار نہیں کیا۔ وہ ’مریادا‘ کا خاص خیال رکھتے تھے، چاہے نشانے پر کوئی بھی ہو۔
نریندر مودی کو نصیحت

،تصویر کا ذریعہPRESIDENT OF INDIA
گجرات میں 2002 میں فسادات ہوئے تو انھوں نے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے کہا کہ وہ اپنا فرض (راج دھرم) نبھائیں۔ یہ بات انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہی تھی جس میں خود مودی بھی موجود تھے۔
نریندر مودی کے سیاسی مخالفین واجپئی کی اس نصیحت کا آج بھی ذکر کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھیں اس تنقید کا بھی سامنا رہا کہ جب ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا تھا تو بحیثیت وزیر اعظم خونریزی روکنے کے لیے انھیں خود مداخلت کرنی چاہیے تھی۔
واجپئی کا جنم 1926 میں مدھیہ پردیش کے ایک معمولی خاندان میں ہوا تھا۔ انھوں سے قانون کی پڑھائی ادھوری چھوڑ دی اور سیاست کی دنیا میں قدم رکھا۔ انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ہندو قوم پرست تنظیم ان آر ایس ایس ان کی روح ہے لیکن بہت سے تجزیہ کار مانتے ہیں کہ وہ آر ایس ایس کے فرمانوں کو چیلنج بھی کرتے تھے۔
وہ چار دہائیوں تک پارلیمان کے رکن رہے اور کہتے ہیں کہ جواہر لال نہرو نے نظریاتی اختلافات کے باوجود یہ پیشن گوئی کی تھی کہ واجپئی ایک دن ملک کے وزیر اعظم بنیں گے۔
نہرو کے انتقال پر واجپئی نے کہا تھا کہ رہنما تو چلا گیا لیکن مداح ابھی باقی ہیں۔
یہ بات آج بھی بہت سے لوگوں کے دل و دماغ میں گونج رہی ہوگی۔







