انڈیا: سنیما ہالز اور تھیئٹروں پر قومی ترانہ بجانے کی پابندی ختم

،تصویر کا ذریعہThinkstock
انڈیا کی سپریم کورٹ نے منگل کو ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اب سے سینیما ہالز اور تھیئٹروں قومی ترانہ بجانا لازمی نہیں ہے۔
اس سے قبل گذشتہ روز مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو تجویز دی تھی کہ تھیئٹروں میں قومی ترانہ بجانے کے فیصلے میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی بینچ نے 30 نومبر سنہ 2016 کو یہ حکم دیا تھا کہ ہر تھیئٹر میں فلم کے آغاز سے پہلے لازمی طور پر قومی ترانہ بجایا جائے اور اس دوران وہاں موجود ناظرین اس کے احترام میں کھڑے ہوں۔
ان کہنا تھا کہ شہریوں میں وطن پرستی کے جذبے کے فروغ کے لیے اس کا بجانا ضروری ہے۔
اس فیصلے کی وسیع پیمانے پر مخالفت ہوئی تھی اور بعض جگہ اس کی خلاف ورزی کی گئی اور گرفتاریاں بھی ہوئیں جبکہ کئی جگہ تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹن جی وائی چندرچور نے اس کے خلاف ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے اکتوبر سنہ 2017 میں چیف جسٹس دیپک مشرا کے سامنے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی کہ 'ہر جگہ ہر وقت وطن پرستی کا چوغہ اوڑھنے کی ضرورت نہیں۔'
اس کے بعد وزارت داخلہ نے پانچ صفحات پر مشتمل ایک حلف نامے میں سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ ایک بین وزارتی کمیٹی بنائی گئی ہے جو قومی ترانے کے بجائے اور گائے جانے کے متعلق تمام جہات کو دیکھ کر رہنما اصول تیار کرے اور اس کے لیے چھ ماہ کے دوران وسیع پیمانے پر مشاورت کی جائے گی۔









