'قومی ترانہ کوئی ٹریفک سگنل نہیں کہ رکنا ہی پڑے'

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں سینیما ہالز میں فلم سے پہلے کا منظر جب قومی ترانے پر کھڑے ہونا لازمی ہے
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

انڈیا کے جنوبی شہر تیروآننت پورم میں پیر کو 12 افراد حراست میں لیے گئے جبکہ اتوار کو چینئی میں آٹھ افراد کو مارا پیٹا گیا۔

دونوں ہی موقعوں پر مسئلہ ایک ہی تھا، قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونا۔

تیروآننت پورم میں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے دوران یہ واقع پیش آيا جبکہ چینئی میں ایک فلم کی سکریننگ سے پہلے جب قومی گیت جاری تھا اس وقت یہ واقع پیش آيا۔

تیروآننت پورم میں منعقدہ تقریب میں حراست میں لیے جانے والے ایک شخص نے ایک اخبار کو بتایا: اگر ہم کھڑے ہو جاتے تو ہماری نشستیں چھن جاتیں۔

تمام 12 لوگوں پر سرکاری احکامات پر عمل نہ کرنے کا معاملہ درج کیا گیا اور پھر چھوڑ دیا گیا۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی سپریم کورٹ نے گذشتہ ماہ ایک حکم جاری کیا جس کی رو سے تمام سینیما ہالز میں فلم سے پہلے قومی پرانے بجانا لازمی ہے

اس سے یہ واضح ہے کہ سرکاری حکام سپریم کورٹ کی جانب سے گذشتہ ماہ دیے جانے والے فیصلے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں جس میں قومی ترانے کے دوران کھڑے ہونے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ہر فلم کی سکریننگ سے پہلے قومی ترانہ پلے کیا جائے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے لوگوں سے حب الوطنی کا اظہار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

اور جو لوگ ان پر کھرے نہیں اتر پا رہے ہیں ان پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہے جب قومی ترانے کا احترام نہ دکھانے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اکتوبر میں بھی قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونے پر ایک معذور شخص کی پٹائی کی گئی تھی۔

گذشتہ تین سالوں کے دوران ایسا کئی بار ہو چکا ہے، جب قومی ترانے کا احترام نہ کرنے پر لوگوں کو سینیما ہال سے باہر نکالا گیا، مارا پیٹا گیا اور حراست میں لیا گیا۔

سنہ 1971 میں بننے والے ایک قانون کے مطابق 'قومی ترانے گانے اولے شخص یا گروپ کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کی کوشش پر تین سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں کی تجویز ہے۔' لیکن اس کے بعد کئی ریاستوں نے اس طرح کے اپنے اپنے کئی قانون بنائے۔

جیسے مہاراشٹر میں سنہ 2003 سے ہی سینیما ہالز میں قومی ترانے بجائے جانے کو لازمی قرار دیا گیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے پورے ملک کے سینیما گھروں کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔

انڈیا قومی پرچم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے علاوہ دوسرے بہت سے ممالک میں بھی جبری قوم پرستی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق: تمام سینیما ہالز میں فلم دکھانے سے پہلے قومی ترانہ بجے گا جس کے ساتھ قومی پرچم کی تصویر ہو گی اور اس دوران لوگوں کو کھڑے رہنا ہوگا اور سینیما ہالز کے دروازے بند کر دیے جائیں گے تاکہ لوگوں کی نقل و حرکت نہ ہو۔

بعد میں عدالت نے مہربانی دکھاتے ہوئے معذور افراد کے لیے کھڑے ہونے کی قید ختم کر دی۔

ناقدین نے فیصلے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ شہریوں کے اظہار خیال کی آزادی پر حملہ ہے۔'

کچھ لوگوں نے کہا: 'لوگوں سے جبراً حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔'

ایک نامور مصنف نے کہا ہے کہ حب الوطنی اور سینیما کا یہ میل بڑا عجیب سا ہے۔

'سینیما ہالز کے اندر لہراتے ہوئے قومی پرچم کو دیکھ کر فخر اور حب الوطنی سے ترغیب پاکر قومی ترانہ کے لیے کھڑے ہونا عجیب ہے کیونکہ لوگ اپنے دین و دنیا کے دکھ درد بھول کر تفریح کے لیے سینیما گھروں میں آتے ہیں۔'

ایک سابق سفارت کار کے مطابق: 'قومی ترانہ کوئی ٹریفک سگنل نہیں ہے جسے ماننا ہی پڑے۔ کوئی ٹیکس نہیں ہے جسے جمع کرنا ہی پڑے۔'

سیاسی تجزیہ کار پرتاپ بھانو مہتا کہتے ہیں: 'کہاں تو ایک طرف لوگوں کو آسانی سے انصاف نہیں مل رہا ہے وہیں دوسری طرف عدالتوں کا رویہ لوگوں کے اقدار اور اداروں کی آزادی پر حملے کر رہا ہے۔'

قومی ترانہ کو حب الوطنی اور مخالفت دونوں کو ظاہر کرنے کا وسیلہ کہا جاتا ہے۔

جاپان میں سکول اساتذہ کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ قومی ترانے کے دوران انھیں کھڑے رہنا ہے۔

وہیں میکسیکو میں ایک عورت پر قومی ترانے کے الفاظ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام میں جرمانہ بھی عائد کیا جا چکا ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں قوم پرستی کے اظہار کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے

جبکہ ستمبر میں مشہور امریکی فٹبال کھلاڑی کولن كیپرنك نے کہا تھا: مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

كیپرنك، ایک دفعہ قومی ترانے کے دوران کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ میں سیاہ لوگوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف انھوں نے ایسا کیا تھا۔

پرنسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر کیون کروز نے مجھے بتایا: 'کچھ دائیں بازو کے لوگ جو قومی نظریے کی سیاست کرتے ہیں، وہ قومی ترانے کو اہم مسئلہ مانتے ہیں۔ جنگ کے موقعوں پر ایسا اکثر ہوتا رہا ہے۔ ویت نام کی جنگ کے وقت قوم پرستی کی سیاست کی گئی تھی۔'

انڈیا میں جو ہو رہا ہے ویسا دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ہو رہا ہے۔ اس دور میں اصل قوم پرستی کے بجائے مقبول اور نسلی قوم پرستی کا زیادہ زور ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار سہاس پلسيكر کہتے ہیں: 'سزا دینے کے درپے افسرشاہی کے دماغ میں پنپنے والی قوم پرستی کھلی نگرانی اور اختیاریت والی ریاستی مشینری کے راستے کھول دیتا ہے۔'

دوسرے الفاظ میں کہیں تو ریاست اور عدلیہ جب قوم پرستی کے رکھوالے بن جاتے ہیں تو عام شہریوں کی آزادی کو خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔