بنارسی ساڑھی دم توڑ رہی ہے!
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بنارس
بنارس کی پہچان بن جانے والی ریشم کی روایتی بنارسی ساڑھیاں تیزی سے ٹیکنالوجی کی جنگ ہار رہی ہیں۔
شہر کی تنگ گلیوں میں اب مشکل سے ہی وہ صدیوں پرانے روایتی ہینڈلوم نظر آتے ہیں جن پر ہنرمند کاریگر دن رات محنت کرکے ریشم اور زری کے باریک دھاگوں کو خوبصورت فن پاروں میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔
بنارس میں جولاہوں یا ’بنکروں‘ کی بہبود کے لیے کام کرنے والے عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ ’ہیریٹیج‘ یا روایتی انداز میں بنائی جانے والی ساڑیوں کا کام اب صرف دس فیصد ہی بچا ہے۔ اس کام میں اب گزارے لائق بھی آمدنی نہیں ہے اس لیے کاریگر دوسرے پیشوں کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہNot Specified
اور یہ ہی عبدااللہ فیصل اور ان کے بھائی سعد کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں اپنے روایتی خستہ حال ہینڈ لوم چلاتے ہیں۔
دونوں بھائیوں نے کم عمری میں ہی یہ کام شروع کر دیا تھا۔ لیکن فیصل کہتے ہیں کہ 'اب اس کام میں کوئی مستقبل نہیں، ہینڈ لوم پر ساڑھی تیار کرنا بہت محنت اور ہنر کا کام ہے لیکن بدلے میں کچھ نہیں ملتا۔۔۔ اس لیے کاریگر یہ کام چھوڑ کر مزدوری تک کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ایک بار ہینڈ لوم سے ہٹ گئے تو واپس آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

وہ کہتے ہیں کہ 'خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے بنارسی ساڑھیاں اب اتنی مہنگی ہوتی جارہی ہیں کہ خریدار نہیں ملتے، ہینڈلوم پر ایک ساڑی دس سے پندرہ دن میں تیار ہوتی ہے اور پاور لوم پر صرف تین گھنٹے میں۔‘
عبداللہ سعد کہتے ہیں کہ ’ہم پڑھے لکھے نہیں ہیں، کوئی دوسرا کام بھی نہیں جانتے۔۔۔ پورے مہینے محنت کرکے پانچ چھ ہزار روپے کماتے ہیں، بس کسی طرح گزارا کر رہے ہیں لیکن اس کام میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘
عبداللہ انصاری کے مطابق یہ استحصال کی کہانی ہے۔ ایک اچھی ساڑھی جو کاریگر سے 15 ہزار روپے میں خریدی گئی ہو، کسی بڑے بازار میں ایک لاکھ روپے تک کی بکتی ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ بیچ کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟

بنارس اور اس کے گرد و نواح میں لاکھوں لوگ اس صنعت سے وابستہ ہیں، لیکن تیزی سے گرتی ہوئی مانگ، مہنگے کچے مال اور چین سے مقابلے کی وجہ سے اب بازار کے تقاضے بدل رہے ہیں۔ اور غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے ان دستکاروں کو نہیں معلوم کہ وہ کریں تو کیا کریں۔
عبداللہ فیصل کہتے ہیں کہ بہت بار یہ خیال آتا ہے کہ ’ہم اپنے مال کی خود مارکٹنگ بھی کریں لیکن اس کے لیے بہت پیسہ چاہیے جو ہمارے پاس نہیں ہے اس لیے کبھی ہمت نہیں ہوتی۔‘
بنارس میں جگہ جگہ ایسی گنجان آبادیاں ہیں جہاں پہلے گھر گھر میں ہینڈلوم چلا کرتے تھے۔ لیکن اب ان کی جگہ پاور لوم لیتے جارہے ہیں۔ اس باریک کام میں عورتیں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی تھیں، اب انھیں دوسرے کام تلاش کرنے پڑ رہے ہیں۔

واجدہ بیگم قریب ہی ایک گھر میں اپنی سلائی مشین پر سر جھکا کر کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اب سلائی کا جو کام مل جاتا ہے، اسی سے گزارا کرتے ہیں ورنہ ایک وقت تھا کہ ’ہم خود ساڑھی بنتے تھے۔۔۔ لوگ دیکھنے آتے تھے کہ یہ عورت ساڑھی بنتی ہے! لیکن اب اس کام میں کچھ باقی نہیں اس لیے ہمارے بچے بھی دوسرے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔‘
شہر کے ایک بڑے بازار میں عبدالرحمان ساڑھیاں بیچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ریٹ دگنا تین گنا بڑھ جانے کی وجہ سے مانگ بہت کم ہوگئی ہے۔۔۔اور اصلی بنارسی کے لیے دن بہ دن صورتحال خراب ہو رہی ہے۔۔۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ ہاتھ سے بننے والی ساڑھی کی قدر وہ ہی کرسکتے ہیں جو اسے پہلے استعمال کرچکے ہیں۔۔۔۔ پاورلوم کی ساڑھیاں بہت سستی ہیں، جلد کے لیے بھی اچھی نہیں لیکن اتنی سستی ہیں کہ لوگ خریدتے ہیں کچھ دن پہن کر پھینک دیتے ہیں۔‘

اس روایتی صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ کوشش حکومت کی طر ف سے بھی ہوئی اور کچھ مشہور ڈیزائنر بھی میدان میں اترے، لیکن عبداللہ انصاری کے مطابق ان کاریگروں کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔
یہ خرگوش اور کچھوئے کی دوڑ ہے اور فی الحال اس میں ہر بار خرگوش ہی جیت رہا ہے۔











