موکش: زندگی اور موت کے چکر سے آزادی
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بنارس
بنارس کا موموکشو بھون ایک ایسی پرانی خوبصورت عمارت ہے جہاں کوئی واپس جانے کے لیے نہیں آتا۔
چاروں طرف ایک عجیب سی خاموشی ہے، اور موت کا انتظار۔
ایک بڑے صحن کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں جنھیں تاحیات کرائے پر لیکر ہندو عقیدت مند موت کا انتظار کرتے ہیں۔
ان میں سے ایک کمرے میں یش اوستھی رہتے ہیں۔ عمر کے ساتھ چہرے پر جھریاں پڑ چکی ہیں اور کمر جھک گئی ہے لیکن ارادے کی پختگی میں کوئی کمی نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ہم تو بس یہیں رہنا چاہتے ہیں۔۔۔ہم نے تو عمر بھگوان کے قدموں میں ہی گزارنی ہے، وہ ہمیں جس حال میں بھی رکھے گا ہمیں منظور ہے ۔۔۔ بس ایک ہی تمنا لیکر یہاں آئے ہیں کہ موکش ملے نہ ملنے ان کے قدموں میں جگہ ملتی رہے۔۔۔اس سے زیادہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔'
یش اوستھی اور ان کی اہلیہ پاروتی اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'موکش حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'یہ ایسا قدم ہے جو واپس نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے مجھے سے کہا کہ تم چلنا چاہو تو چلو، بچوں کے ساتھ رہنا چاہو تو تمہاری خوشی ہے لیکن میرا فرض ان کی خدمت کرنا ہے، میں الگ کیسے رہ سکتی ہوں؟'
بنارس ہندوؤں کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے اور 'موکش' کے متلاشی ہندو مانتے ہیں کہ اگر یہاں موت نصیب ہو تو زندگی اور موت کے چکر سے آزادی مل جاتی ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق انسانوں کے کئی جنم ہوتے ہیں اور موکش کے بغیر وہ مختلف جانداروں میں آتے رہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنارس میں ایسے کئی مرکز ہیں جہاں موکش کی چاہ رکھنے والے کمرے کرائے پر لیکر موت کا انتظار کرسکتے ہیں۔
قریب ہی ایک اور کمرے میں لکشمی نارئنن رہتی ہیں۔ وہ عیش و آسائش کی زندگی چھوڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ حیدرآباد دکن سے یہاں آئی ہیں، دو بیٹیاں ہیں، دونوں بیرون ملک آباد ہیں۔

لکشمی کہتی ہیں کہ 'اب زندگی میں کوئی ذمہ داری باقی نہیں ہے، ایک زمانہ تھا کہ ہم خوب گھومتے پھرتے تھے، روز باہر جاتے تھے، کبھی انھیں گھر لوٹنے میں دیر ہوجاتی تو میں ان سے لڑتی بھی تھی۔۔۔ایک دن میں ہم تین تین فلمیں دیکھتے۔۔۔لیکن وہ تب کی بات تھی، اب میں جانے کے لیے تیار ہوں اور ہم نے اپنے بچوں سے بھی کہہ دیا ہے کہ جب ہماری موت کی خبر ملے تو زیادہ پریشان نہ ہوں۔۔۔ سب اچھا ہی ہوگا۔'
جیسے ہی شام ڈھلنا شروع ہوتی ہے، دوسرے عقیدت مندوں کی طرح لکشمی بھی آنگن میں تلسی کے پیڑ کے نیچے ایک دیا جلاتی ہیں۔ لیکن انھیں بھی زندگی کی لو بجھنے کا انتظار ہے، اور ان کے چہرے پر کوئی شکن نہیں۔
یہاں لوگ انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں، پورا دن پوجا پاٹھ اور مذہبی کتابوں کے مطالعے میں ہی گزرتا ہے اور ان کے نئے آخری گھروں میں بس زندہ رہنے کے لیے ضروری سامان ہی نظر آتا ہے۔
لیکن موت کا انتظار کرنا کیسا لگتا ہے؟

یہاں سب کی زبان پر ایک ہی بات ہے: 'زندگی ملی ہے تو اسے ختم بھی ہونا ہے، ایسا کوئی نہیں جو یہیں رہا ہو، بس جتنا بھی وقت باقی ہے وہ بھگوان کا نام لیکر گزارنا چاہتے ہیں۔۔۔موت کی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہیں آئے گی، آجائے تو اچھا ہے نہ آئے تو بھگوان کی مرضی۔'
موموکشو بھون سے ذرا فاصلے پر گنگا بہتی ہے جسے ہندو مذہب میں انتہائی مقدس مقام حاصل ہے۔ ہندو مانتے ہیں کہ اس کے پانی میں نہانے سے ان کے پاپ (گناہ) دھل جاتے ہیں، اور تمنائیں پوری ہوتی ہیں۔
کہتے ہیں کہ گنگا کے گھاٹوں پر چتاؤں کی آگ کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی، ہندو کوشش کرتے ہیں کہ اپنے عزیزوں کی آخری رسومات گنگا کے کنارے ہی ادا کریں۔
یہاں لوگ زندگی کی مرادیں بھی لیکر آتے ہیں، اور زندگی سے آزادی کی بھی۔










