آپ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے: انڈین سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی عدالت عظمی نے کہا کہ مزید سماعت نو اکتوبر کو ہوگی

انڈیا کی عدالت عظمی نے 'لو جہاد' کے مبینہ معاملے میں کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر سماعت کرتے ہوئے عدالت کے اختیار پر سوال اٹھایا ہے کیا وہ ایک مسلمان لڑکے کی ایک ہندو لڑکی کے ساتھ شادی کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

انڈیا کی سرکاری نیوز ایجینسی پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ کیرالہ ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے میں نیشنل انویسٹیگیٹنگ ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعے جانچ کرانے کے فیصلے پر بھی بظاہر متفق نظر نہیں آئی۔

خیال رہے کہ کیرالہ ہائی کورٹ نے این آئی اے کو اس بات کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی تھی کہ آیا اس شادی کے پیچھے مبینہ 'لو جہاد' کا کوئی 'وسیع پیٹرن' نظر آتا ہے۔

عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران کہا: 'کوئی پیٹرن ہو یا نہیں ہو، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہائی کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے شادی کو کالعدم قرار دینے کا حق ہے یا نہیں۔'

چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور ڈی وائی چندرچوڑ کی بینچ نے لڑکی کے والد سے کہ وہ ایک 24 سالہ لڑکی پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتے۔

خیال رہے کہ ایک ہندو لڑکی اکھیلااسوکن نے مبینہ طور پر سنہ 2013 میں اسلام قبول کر لیا تھا اور انھوں نے دسمبر سنہ 2016 میں شفین جہان سے شادی کر لی تھی۔ اکھیلا کا نام اب ہادیہ ہے۔

آر ایس ایس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں ہندو سخت گیر تنظیمیں یہ الزام لگاتی ہیں کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو بہکا کر شادی کر رہے ہیں

شفین جہان نے عدالت میں شادی کو کالعدم قرار دیے جانے اور این آئی اے سے جانچ کرائے جانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔

انڈیا کے معروف اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے منگل کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے لڑکی کے والد سے کہا کہا: 'وہ 24 سال کی ہے۔ آپ اسے کیسے کنٹرول سکتے ہیں۔ طرفین کی رضامندی سے ہم (لڑکی کے لیے) نگہبان مقرر کر سکتے ہیں۔ والد یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیشہ 24 سال کی اپنی بیٹی پر کنٹرول رکھیں گے۔'

خیال رہے کہ ہائی کورٹ نے شادی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اکھیلا اسوکن عرف ہادیہ کو ان کے والدین کی تحویل میں دے دیا تھا۔

شفین جہاں کے وکیل دشینت داوے نے این آئی اے کی جانچ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا: 'این آئی کی جانچ نے اس کثیر مذہبی ملک کی بنیاد کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ این آئی اے کی جانچ کا حکم قانون کے مطابق نہیں۔'

کریم خان اور سنگیتا

،تصویر کا ذریعہKARIM KHAN

،تصویر کا کیپشنسنگیتا نے کریم خان سے شادی کر کے پوری کوشش کی ہے کہ وہ کریم کے خاندان کی روایات کے مطابق رہیں

ان کو جب کہا گیا کہ وہ چیخیں نہیں تو انھوں نے کہا کہ 'میں چیخوں گا۔' انھوں نے مزید کہا: 'نہ تو ریاست نے اپیل کی تھی نہ والد نے اپیل کی تھی نہ این آئي اے نے اپیل کی تھی پھر کس طرح معزز جج نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاتے ہوئے جانچ کا حکم دے دیا تھا۔'

انھوں نے عدالت سے پوچھا: 'اس جانچ نے اس کثیر مذہبی ملک کی بنیاد کو ہلا دیا ہے۔ بی جے پی میں اقلیتی برادری سے آنے والے دو بڑے اہلکار نے ہندو عورتوں سے شادی کر رکھی ہے کیا حضور والا اس معاملے میں بھی این آئی اے کی جانچ کا حکم دیں گے؟ اس حکم نے دنیا بھر میں خوفناک پیغام بھیجا ہے۔'

ان کا اشارہ بظاہر اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی اور سابق وزیر شہنواز حسین کی جانب تھا۔

اب عدالت اس معاملے میں نو اکتوبر کو سماعت کرے گی۔

انڈیا میں ہندوؤں کی سخت گیر تنظیمیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ داعش اور دیگر مسلم شدت پسند تنظیموں کی ایما پر مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر انھیں مسلمان بناتے ہیں اوران سے شادی کرتے ہیں۔ یہ تنظیمیں اسے 'لو جہاد' کا نام دیتی ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس 'لو جہاد' کے لیے غیر ممالک سے با ضابطہ فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اس طرح کا کوئی واقعہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔