بات چیت کے بغیر مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں: محبوبہ مفتی

،تصویر کا ذریعہINFORMATION DEPARTMENT
انڈیا کے زیر انتظام جموں اور کشمیر کی وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی نے دہلی میں کہا ہے کہ بات چیت کے بغیر کشمیر کے مسئلے کا حل ناممکن ہے۔
انھوں نے پیر کو دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ 'جب اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے اور ایل کے اڈوانی ان کے نائب تھے اس زمانے میں انھوں نے حریت سے بھی بات چیت کی تھی۔ اور اٹل بہاری واجپئی نے جہاں بات ختم کی تھی وہیں سے بات شروع ہونی چاہیے۔'
انھوں نے اپنے والد اور سابق وزیر داخلہ اور وزیراعلی مفتی محمد سعید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کشمیر کے حل کے لیے جو نقشہ دیا تھا اس میں بات چیت ناگزیر ہے 'کیونکہ کب تک اپنے لوگوں کے ساتھ کنفرنٹیشن کرتے رہیں گے ۔۔۔ ہمیں کسی نہ کسی سطح پر بات چیت کرنی ہوگی۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'بات چیت کے لیے ہیں پہلے ایک ماحول تیار کرنا ہے کیونکہ ایک طرف سے پتھراؤ اور دوسری طرف سے گولی کے ماحول میں بات چیت شاید ممکن نہیں ہو۔'
'ہم نے یہ بات بھی کی کہ ہم مل جل کر جموں و کشمیر میں ایک ایسا ماحول بنائیں جس میں گورننس بھی ممکن ہو، ترقی بھی ممکن ہو اور ڈائیلاگ بھی ممکن ہو۔'

،تصویر کا ذریعہAFP
محبوبہ مفتی نے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے وزیر اعظم پر زور دیا ہے کہ وہ انڈس واٹر ٹریٹی کا مسئلہ سلجھائیں کیونکہ اس کی وجہ سے جموں کشمیر کو ہر سال 20 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کے متعلق کوئی نہ کوئی حل تلاش کیا جائے گا۔
وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کشمیر میں پتھراؤ روکنے اور امن و امان بحال کرنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا: 'کل ہماری یونیفائڈ کمانڈ کے ساتھ میٹنگ ہے جس میں اس پر غور کریں گے اور پتھر بازی کے لیے باہر سے واٹس ایپ گروپ یا فیس بک کا استعمال کرکے جو اکسایا جا رہا ہے اس لیے لائحہ عمل تیار کریں گے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے واضح کیا کہ پتھربازی کی کئی وجوہات ہیں: 'کچھ نوجوان مایوس ہیں، خفا ہیں اور ناراض ہے اور دوسرا گروپ وہ ہے جسے جان بوجھ کر اکسایا جاتا ہے۔ ان سب پر کل بات ہوگی اور ہم کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالیں گے۔'
انھوں نے بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان کشیدگی کے معاملے پر کہا کہ اسے دور کر لیا جائے گا۔








