نریندر مودی کا کہنا ہے کہ کشمیری سیاحت کا انتخاب کریں یا پھر دہشت گردی کا

india

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وادی کے نوجوانوں کے پاس دو آپشنز ہیں اور وہ ہیں ٹورازم یا ٹیررازم

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کے پاس دو راستے ہیں کہ یا تو وہ ٹوراِزم (سیاحت) کا انتخاب کریں یا پھر ٹیرراِزم (دہشت گردی) کا۔

انہوں نے کہا کہ 40 سال سے کھیلے جا رہے خون کے کھیل سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔

یہ بات انہوں نے جموں سرینگر ہائی پر تعمیر کی گئی ’چنانی - ناشری‘ نامی 9.2 کلوٹیر لمبی سرنگ کے افتتاح کے موقع پر کہی۔

india

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنانڈین وزیر اعظم کے بقول 'چنانی ناشری' صرف فاصلے کم کرنے والی لمبی سرنگ نہیں ہے بلکہ ریاست کی ترقی میں ایک بڑا قدم ہے

مودی نے کشمیری نوجوانوں کو مخاطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے نوجوانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ مودی نے نام لیے بغیر، پاکستان کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ سرحد پار والے خود کو ہی نہیں سنبھال پا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کچھ بھٹکے لوگ سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینکنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف لوگ پتھر کاٹ کر سرنگ بنا رہے ہیں۔ انڈین وزیر اعظم کے بقول 'چینانی - ناشری' صرف فاصلے کم کرنے والی لمبی سرنگ نہیں ہے بلکہ ریاست کی ترقی میں ایک بڑا قدم ہے۔

india

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنانڈین وزیراعظم کے بقول مستقبل میں ایسی نو سرنگ بنانے کا منصوبہ ہے جو کہ پورے انڈیا کو جموں و کشمیر سے جوڑے گا

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وادی کشمیر کے لیے یہ سرنگ نعمت بن کر آئی ہے اور اب یہاں سے سامان باہر کے بازار میں لے جانا آسان ہو گیا ہے۔

اودھم پور میں نریندر مودی کے خطاب کے موقع پر جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی موجود تھیں۔

انہوں نے جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو مخطاتب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں محبوبہ جی کو مبارک باد دیتا ہوں، 80 ہزار کروڑ کا جو پیکیج جموں کشمیر کے لیے منظور کیا گیا، اس میں سے نصف سے زیادہ زمین پر اتر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسی نو سرنگیں بنانے کا منصوبہ ہے جو کہ پورے انڈیا کو جموں و کشمیر سے جوڑے گا اور یہ راستوں کا نہیں بلکہ دلوں کا نیٹ ورک ہو گا۔‘

سرینگر کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننریندر مودی کے دورے کے موقعے پر وادی کشمیر میں کاروبار زندگی معطل رہا

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ نریندرا مودی جو ٹھان لیتے ہیں اسے وہ پورا کرکے ہی چھوڑتے ہیں۔

جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند راہنماؤں نے انڈین وزیراعظم کے دورے کے موقع پر ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کی کال دی تھی۔ وادی میں اس دوران کاروبار زندگی معطل رہا۔