چھتیس گڑھ: ماؤنواز باغیوں کے حملے میں سی پی آر ایف کے 11 جوان ہلاک

،تصویر کا ذریعہCRPF
انڈیا کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے شورش زدہ علاقے سکما میں ماؤ نواز باغیوں سے تصادم میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 11 جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق سنیچر کی صبح ہونبے والی جھڑپ میں سی آر پی ایف کے کم از کم پانچ جوان شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ضلع بستر کے انچارج آئی جی سندر راج نے مقامی صحافی آلوک پتل کو بتایا کہ 'سی آر پی ایف کی 219 ویں بٹالین کے جوان بھیجی تھانے کے علاقے کی جانب روانہ کیے گئے تھے جہاں كوتتاچيرو کے پاس پہلے سے گھات میں بیٹھے ماؤنواز باغیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔'
پولیس کا کہنا ہے کہ ماؤنوازوں نے سڑک پر دھماکے کرنے کے بعد چوطرفہ حملہ کیا اور اس وجہ سے جوانوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔
اس حملے میں 11 جوان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ماؤنواز ان کے ہتھیار بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
تصادم میں شدید زخمی ہونے والے پانچ جوانوں کو رائے پور کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ریاست کے وزیر داخلہ رام سیوک پیكرا نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں اضافی پولیس فورس کو روانہ کیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم مودی بھی نے سکما میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سکما کے حالات پر نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ سکما کا دورہ کرنے والے ہیں۔
خیال رہے کہ چھتیس گڑھ سمیت انڈیا کی ديگر کئی ریاستوں میں ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں اور وہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔







