بیلسٹک میزائل تجربہ: امریکہ کی ایران پر مزید پابندیاں

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل تجربے کے بعد اس پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
جمعے کو امریکہ کے محکمہ خزانہ کے اعلان کیا ہے کہ یہ اقدامات 13 افراد اور درجن بھرکمپنیوں کے خلاف کیے گئے ہیں ان میں چینی، لبنانی اور اماراتی گروپ شامل ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا کہ 'ایران آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ کیا وہ اس بات کی قدر نہیں کریں گے کہ صدر اوباما ان کے ساتھ کتنے 'مہربان' تھے۔ لیکن میں نہیں۔'
تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایک 'ناتجربہ کار شخص' کی جانب سے امریکہ کی 'بیکار' دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔
نئی پابندیاں جن کمپنیوں پر عائد کی گئی ہیں ان میں سے کچھ متحدہ عرب امارات، لبنان اور چین میں موجود ہیں، اور ان میں اسلامی جمہوریہ کے پاسداران انقلاب کے رکن بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی نے ایران کے حالیہ میزائل تجربے کے حوالے سے ایرانی حکومت پر 'نقصان دہ اقدامات' کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
جمعرات کو مائیکل فلن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تفصیلات دیے بغیر کہا کہ 'ہم آج سے سرکاری طور پر ایران کو نوٹس دے رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAFP
اس تجربے کے بعد امریکہ نے ایران پر اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھاے جس میں ایران سے کہا گیا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی صلاحیت رکھنے والے کسی قسم بلیسٹک میزائل سے متعلق کام نہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ 2015 میں ایرانی جوہری پرواگرام سے متعلق ایران اور دنیا کی چھ عالمی قوتوں کےدرمیان طے پانے والے معاہدے میں ایران نے اقوام متحدہ کی جانب سے بلیسٹک میزائلوں پر پابندی میں آٹھ سالہ توسیع منظور کی تھی۔
تاہم مائیکل فلن نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد نہیں کیا تھا۔







