ایران کو اس کی سرحدوں کے اندر محدود کرنا ہو گا: سعودی فوج

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب کی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ وقت ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ ایران کا رویہ تبدیل ہو سکے۔
بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنرل احمد اسیری نے کہا کہ عراق، شام اور یمن جیسے ممالک میں ایران کی مداخلت اور عزائم بڑا خطرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو 'اس کی سرحدوں کے اندر محدود کرنا ہوگا۔'
خیال رہے کہ سنی اکثریتی ملک سعودی عرب اور شیعہ اکثریتی ایران کے درمیان حالیہ چند برسوں میں شدید نوعیت کے اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی سعودی عرب کے حکام شیعہ مسلک کے شہریوں کے خلاف تعصب سے انکار کرتے ہیں اور ایران پر بے اطمینانی پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔
گذشتہ کے آغاز پر سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر کی سزائے موت کے بعد ایران سے پیدا ہونے والی کشیدگی پر ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ جنرل اسیری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی نے ایران کے حالیہ میزائل تجربے کے حوالے سے ایرانی حکومت پر 'نقصان دہ اقدامات' کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
مائیکل فلن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تفصیلات دیے بغیر کہا کہ'ہم آج سے سرکاری طور پر ایران کو نوٹس دے رہے ہیں۔'
اس سے قبل امریکی حکومت ایران کے میزائل تجربے کو ناقابلِ قبول قرار دے چکی ہے۔







