نریندر مودی کی پگڑی کیا پیغام دے رہی ہے؟

مودی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا کی یوم جمہوریہ کی پریڈ میں گلابی رنگ کی پگڑی پہنی تھی
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا کے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں گلابی رنگ کی پگڑی کیا پہنی کہ لوگوں نے طرح طرح کے مطلب نکالنا شروع کر دیے۔

وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ ہیں، مانا کہ وہ جو کہتے ہیں یا کرتے ہیں اس کے مضمرات ہوتے ہیں، آپ کو پسند آئے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن جب وہ کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان میں سرجیکل سٹرائکس کی ہیں تو دنیا توجہ سے سنتی ہے اور جب وہ اچانک بڑے نوٹ بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو سوا ارب لوگ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے سامنے لمبی لمبی قطاریں لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ ذرا مشکل ہی لگتا ہے کہ صبح کو نہانے کے بعد جب بھی وہ اپنے کپڑوں کی الماری کے سامنے کھڑے ہوتے ہوں گے تو یہ سوچتے ہوں گے کہ آج قوم کو کیا پیغام دیا جائے اور خود بولیں یا اپنے لباس کو بولنے دیں۔

وہ سر ڈھکتے ہیں تو تجزیہ ہوتا ہے، نہیں ڈھکتے تو تنازع! گذشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران جب انھوں نے ایک مرتبہ ٹوپی پہننےسے انکار کردیا تھا تو تجزیہ بھی ہوا تھا اور تنازع بھی کیونکہ انھیں ٹوپی پہنانے کی کوشش ایک مولوی نے کی تھی!

مودی کوٹ میں اوباما کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمودی نے ایک قیمتی سوٹ پہنا تھا جس پر ان کا نام ہزاروں مرتبہ کڑھا ہوا تھا تو کسی نے کہا کہ وہ دس لاکھ کا سوٹ پہن کر غریبوں کا مزاق اڑا رہے ہیں

پھر انھوں نے ایک قیمتی سوٹ پہنا جس پر ان کا نام ہزاروں مرتبہ کڑھا ہوا تھا تو کسی نے کہا کہ وہ دس لاکھ کا سوٹ پہن کر غریبوں کا مزاق اڑا رہے ہیں تو کسی نے کہا کہ یہ ’سوٹ بوٹ‘ کی سرکار ہے، یہ صرف بڑے صنعت کاروں کے لیے کام کرتی ہے!

بہرحال، یوم جمہوریہ پریڈ میں وہ گلابی پگڑی پہن کر پہنچے تو تجزیہ ہونا ہی تھا۔ تو سوال یہ ہے کہ سردی کافی تھی، انھوں نے صرف سر اور کان ڈھکنے کے لیے پگڑی پہنی تھی یا ساتھ میں کوئی پیغام بھی تھا؟

فیشن کے ماہر راہل مشرا نے ایک اخبار کو بتایا کہ ’لگتا ہے کہ یہ راجستھان کی کوٹہ سلک کی پگڑی تھی جو بہت ہلکی ہوتی ہے اور اس سے عوام آسانی سے ’کنیکٹ‘ کر پاتے ہیں۔ (مطلب شاید یہ ہے کہ اس پگڑی سے عوام کو اپنے پن یا اپنایت کا احساس ہوتا ہے) گلابی رنگ ایک نئی شروعات کا مظہر ہے اور اس سے بھی اہم یہ کہ سب کو ساتھ لے کر چلنے اور تسلیم کرنے (یا رواداری) کا پیغام دیتا ہے۔ اس خاص موقع پر اس پگڑی کا انتخاب بہت موزوں تھا!'

اور ہمیں یہ خبر بھی نہ ہوئی کہ پی ایم کی پگڑی کی پرتوں میں اتنا گہرا پیغام چھپا ہوسکتا ہے!

نریندر مودی سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث چھڑی رہی کہ پگڑی کے پیچھے کیا سوچ کارفرما تھی؟

ایک طرف ان کے مداح تھے جن کا خیال تھا کہ ہمیشہ کی طرح وہ بہت سمارٹ لگ رہے تھے، دوسری طرف وہ لوگ جو ہر چیز میں مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مودی نواز

،تصویر کا ذریعہMEAINDIA

،تصویر کا کیپشننریندر مودی لاہور کے ہوائی اڈے پر نواز شریف سے ملاقات کرتے ہوئے

ایک پیغام میں کہا گیا کہ گلابی پگڑی ہم جنس پرستوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کی عکاس ہے تو کسی نے کہا کہ انھوں نے یہ پگڑی دو ہزار روپے کے نئے گلابی نوٹ کا استقبال کرنے کے لیے پہنی تھی!

لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ گلابی پگڑی سرخیوں میں رہی ہو۔ اس کا سرحد پار پاکستان سے بھی کنکشن ہے!

دسمبر 2015 میں جب وزیرا عظم نریندر مودی اچانک پاکستان گئے تھے تو کہا گیا تھا کہ انھوں نے میاں نواز شریف کو ایک گلابی راجستھانی پگڑی تحفے میں دی تھی جو وزیر اعظم پاکستان نے اپنی نواسی کی شادی میں پہنی تھی!

اس وقت خبروں میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے یہ پگڑی پہن کر ہمسایہ ملک کے لیے اپنی صدق دلی کا اظہار کیا ہے اور اس سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی کے تحفے کی کتنی قدر کرتے ہیں!

لیکن پھر انڈیا اور پاکستان میں کچھ صحافیوں، جن میں سینیئر صحافی سہاسنی حیدر بھی شامل تھیں، نے کہا کہ بظاہر یہ خبر سچ نہیں تھی۔

سہاسنی حیدر اس وقت دی ہندو کی ڈپلومیٹک ایڈیٹر تھیں۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں کے اعلی اہلکاروں نے انھیں بتایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو کوئی تحفہ نہیں دیا تھا!

مودی نواز

،تصویر کا ذریعہMEAINDIA

،تصویر کا کیپشننواز شریف لاہور ایئر پورٹ پر مودی کا خیر مقدم کرتے ہوئے

تو کیا یہ وہی پگڑی تھی؟ کیا یہ وہ پگڑی تھی جو ہند پاک دوستی کی علامت بن سکتی تھی؟ کیا وزیر اعظم اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے، یا لے گئے تھے اور پھر واپس لے آئے؟

شاید اس پگڑی کے راز ابھی پوری طرح افشا نہیں ہوئے ہیں۔ کیا اس خوبصورت گلابی پگڑی میں ہندوستان کے عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی کوئی پیغام تھا؟ کیا باہمی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں، کیا یہ بات چیت راجستھان میں ہوسکتی ہے، کیا دونوں ملکوں کے وفود کے لیے پگڑی پہننا لازمی ہوگا؟

یا پھر وزیر اعظم کو صرف ٹھنڈ لگ رہی تھی، انھیں کئی گھنٹے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھنا تھا، بارش کی پیشن گوئی تھی اور حفظ ما تقدم کے طور پر انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ سر ڈھک لیا جائے؟

اف یہ پگڑی۔۔۔۔!