افغانستان میں طالبان کا قندوز پر ایک بار پھر حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں حکام کے مطابق افغان طالبان نے رات گئے شہر پر چاروں جانب سے حملہ کیا ہے۔
صوبائی گورنر کے ترجمان محمود دانش کا کہنا ہے افغان فورسز نے یہ حملہ پسپا کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں طالبان نے مختصر مدت کے لیے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا تاہم حکومتی فوجوں نے نیٹو کی مدد سے کچھ ہی دن میں شہر سے قبضہ چھڑوا لیا تھا۔
صوبہ قندوز میں دارالحکومت قندوز شہر میں مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھاری گولہ باری اور ہیلی کاپٹروں کی آوازیں سنی تھیں۔
قندوز میں پولیس کے کوآرڈینیشن آفس کے سربراہ محمد اللہ بہیج کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے تاہم شہر کے نواحی علاقوں میں اب بھی لڑائی جاری ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شہر نے کئی چوکیوں پر قبضہ کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا تھا کہ 'صبح کے وقت دارالحکومت قندوز کے چار جانب سے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے۔ '
واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے صوبہ اروزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ پر بھی دھاوا بولا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جبکہ منگل کو برسلز میں ایک اہم بین الاقوامی ڈونز کانفرنس منعقد ہورہی ہے جس میں افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے عالمی پارٹنرز امداد کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔







