BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 March, 2009, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مفاہمت ختم، حکومت بنائیں گے‘

 مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کے کارکن اکٹھے
پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کے کارکن ماضی میں مِل کر بھی مظاہر کر چکے ہیں
پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون کے ساتھ مفاہمت نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے اور پارٹی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر بجلی اور پانی راجہ پرویز اشرف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اب ان کی مسلم لیگ نون کے ساتھ مفاہمت نہیں ہوگی اور دونوں جماعتوں کے راستے جدا ہوچکے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے اتوار کی شام پریس کانفرنس میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے پوری کوشش کی کہ مفاہمتی عمل کو نقصان نہ پہنچے اور ٹکراؤ کی سیاست نہ ہو لیکن اب صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں پیپلز پارٹی کے صبر کا پیمانہ لبرزیر ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی نے اُن کے ذہن میں یہ ڈال دیا ہے کہ جب ٹکراؤ کی سیاست کی جاتی ہے تو اس سے انسان بڑا سیاست دان بن جاتا ہے اور بقول اُن کے ماضی میں بھی یہ لوگ ٹکراؤ کی سیاست کرتے ہیں اور اب جمہوریت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ٹکراؤ کی سیاست شروع کی ہے نہ تو وہ جمہوری لوگ ہیں اور نہ ان کی سیاسی سوچ ہے بلکہ وہ صرف ہیرؤ بننا چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے راہمنا مختلف شہروں میں احتجاج جلسے کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ آج علم بغاوت بلند کرنے اور سول نافرمانی کی باتیں کی جارہی ہیں اور یہ علم بغاوت اور دھرنا سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف کیوں نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کوگالی دینا اور اس کو تسیلم نہ کرنا کونسا سیاسی عمل ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے مختلف راہنماؤں کی طرف سے کی جانے والی مفاہمت کی کوششیں کیا اب ختم ہوگئی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ان راہنماؤں کا اپنا رول ہے لیکن جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے اب مفاہمت کی بجائے سیاسی مقابلہ کیا جائے گا۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تا کہ پیپلز پارٹی جمہوری انداز میں صوبے پنجاب میں حکومت حاصل کرے گی اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی جو بقول ان کے وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جس طرح مسلم لیگ نون کو حکومت بنانے کا حق ہے اسی طرح پیپلز پارٹی اور مسلم قاف کو بھی حکومت بنانے کا حق ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اکثریت نہیں ملی تو ان کی جماعت اپوزیشن میں بیھٹے گی۔

اُنہوں نے شریف برادران کا نام لیے بغیر ان پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ نظمیں گا کر اور بڑکیں مار کر کوئی لیڈر نہیں بن سکتا ہے بلکہ لیڈر بننے کے لیے جان کی قربانی دینا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ صدر آصف زرداری کی ذات پر حملے کیے جائیں اور پیپلز پارٹی خاموش رہے۔ ان کے بقول جو صدر آصف زرداری کی ذات پر حملہ کرے گا جو اس حملے کا جواب دیا جائے گا اور پارٹی کے شریک چیئرمین کو تنقید کا نشانہ بنائے گا اس کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج بینظیر بھٹو کے نام لیا جارہا ہے ماضی میں ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور ان کی کردار کشی کی گئی ہے اور بقول ان کے آج دوبارہ وہی کہانی آصف زرداری کے ساتھ دہرانا چاہتے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ شریف برادران کی نااہلی میں پیپلز پارٹی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور وہ اپنے ارگرد دیکھیں تو ان کو وہ چہرے مل جائیں گے جو چاہتے تھے شریف براردران نااہل ہوں اور وہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بن جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی لانگ مارچ اور دھرنے کے اعلانات کے دباؤ میں نہیں آئے گے جو لوگ لانگ مارچ میں پرامن رہیں گے ان کی عزت کی جائے گی اور جو قانون کو ہاتھ میں لیں گے ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا۔

ادھر گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلیْ پنجاب پرویز الہیْ نے ان کے گھر جاکر ملاقات کی۔

اس سے پہلے گورنر پنجاب نے شہر میں سستی روٹی کی فروخت کا جائزہ لینے کے موقع پر میڈیا سے بات کی اور کہا کہ وہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت بلائیں گے جب ان کو یقین ہو جائے گا کہ کسی پارٹی کے اکثریت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد