BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 March, 2009, 15:05 GMT 20:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کو سنگین خطرے کا سامنا‘
ڈیوڈ ملی بینڈ
’داخلی عدم استحکام ایک سنگین صورتحال ہے اور ۔۔۔ صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔‘
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ پاکستان کو داخلی دہشت گردی جیسے ’سنگین خطرے‘ کا سامنا ہے اور پاکستانی سیاستدانوں کو متحد ہو کر اس ’نہایت سنگین صورتحال‘ کا سامنا کرنا چاہیے جو کہ بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

یہ بات برطانوی وزیر خارجہ نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ داخلی عدم استحکام ’ایک سنگین صورتحال ہے اور ۔۔۔ صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔‘

انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے درمیان اختلافات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی سیاستدانوں کو متحد ہونے کا کہا۔ ’میرے خیال میں سیاسی عدم اتحاد کی وجہ سے جو کہ اس وقت پایا جاتا ہے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔‘

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی معاشی تنزلی کی وجہ سے پاکستان میں بھی معاشی بحران ہے اور پوری صورتحال میں اس کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔

لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ابھی نہیں معلوم کہ اس حملے میں کون ملوث ہے لیکن جہادی تنظیم لشکر طیبہ کی پنجاب میں حمایت زیادہ ہے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ نے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ لشکر طیبہ سے منسلک تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

واضح رہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے حوالے سے پولیس نے چودہ حملہ آوروں میں سے چار کے خاکے شائع کیے ہیں۔

پنجاب پولیس کے آئی جی خالد فاروق نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل کرنے میں تھوڑا اور وقت درکار ہے لیکن اگلے چوبیس گھنٹے میں تحقیقات مکمل ہو جائیں گی۔

پاکستانی حکومت کو اس حملے کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کھلاڑیوں کی بس کے پیچھے دوسری بس میں سوار ایمپائروں نے پہلے ہی کہا ہے کہ حملے کے وقت ان کے آس پاس سکیورٹی نہیں تھی۔ اس بس پر دو آسٹریلوی ایمپائر بھی سوار تھے۔

دوسری جانب آسٹریلوی وزیر اعظم کیون رڈ نے جمعے کے روز کہا ’مجھے سکیورٹی کے حوالے سے جان کر بہت تشویش ہوئی ہے اور اس سلسلے میں ہم وضاحت طلب کریں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد