BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش‘

پولیس
سری لنکن کرکٹ ٹیم پر یہ حملہ لبرٹی چوک کے قریب کیا گیا
صدر، وزیراعظم اور ملکی سیاسی اور سماجی جماعتوں کے رہنماؤں نے لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایک بیان میں اس حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس کی فوری تحقیقات کے احکامات جاری کیے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس حملے میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے تاکہ اس دہشت گردی کے پس منظر میں پوشیدہ عزائم سے پردہ اٹھایا جا سکے۔ صدر نے حملے میں زخمی ہونے والوں کے بہترین علاج کی بھی ہدایت کی۔

مماثلت
 صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ اس واقعے میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے ممبئی میں حملے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا طریقہ کار ممبئی حملوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یوسف رضاگیلانی نے واقعے کی فوری انکوائری کا حکم جاری کرتے ہوئے اسے ملک کی بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔ وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور انہیں سانحے کے بارے میں فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وفاقی وزیر نبیل احمد گبول نے کہا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور بھارت سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ممبئئ حملوں کے جواب میں کیا گیا اور پاکستان کے خلاف کھلی اعلان جنگ کے مترادف ہے۔

صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ اس واقعے میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے ممبئی میں ہوٹلوں پر حملے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا طریقہ کار ممبئی حملوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔

سابق کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ سری لنکن ٹیم پر حملہ پاکستان اور کرکٹ دونوں پر حملہ ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے جلا وطن رہنما الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فون پر بتایا کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ ملک کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے ارباب اختیار کو مشورہ دیا کہ بغیر ثبوت کے کسی دوسرے ملک پر الزام لگانے کے بجائے ملک کے اندر ان حملوں کے پیچھے کارفرما عناصر کو تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر احتیاط سے ملک کو مزید بدنامی سے بچایا جا سکتا ہے۔

کون ہو سکتا؟
القاعدہ یا دیگر شدت پسندوں کو سری لنکا کے کرکٹرز سے کوئی مطلب نہیں ہے اور منطقی طور پر اس میں ان عناصر کے ملوث ہونے کا کوئی امکان ہو ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف کارروائیوں پر خوش نہیں ہے اور وہ اس حوالے سے نا صرف سری لنکا بلکہ پاکستان پر بھی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے
راجہ ظفرالحق
انسانی حقوق کی تنظیم کی رکن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ لاہور کے مرکز میں ہونے والی دہشت گردی کی یہ کارروائی سیکیورٹی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ تمام توجہ حفاظتی انتظامات پر ہونی چاہئے تھی صوبے میں پولیس اور بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف ہونے والے اس حملے کی غیر جانبدارانہ اور پیشہ وارنہ تحقیقات کی جائیں۔

ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کا شکار جماعت الدعوہ نے لاہور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

جماعت کے ترجمان یحیٰی مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں اس نوعیت کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں بھارتی ایجنٹ گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بھارت اور دیگر ملک دشمن ایجنسیاں پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

یحیٰی مجاہد نے کہا کہ بھارت کے ساتھ یکطرفہ دوستی کا دم بھرنے کے بجائے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث بیرونی ہاتھ کو بے نقاب کیا جائے۔

لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے پس منظر میں جاری کردہ ایک بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں پاک۔سری لنکا دوستی کے دشمن ملوث ہیں۔

’دشمن ایجنسیاں‘
 ماضی میں اس نوعیت کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں بھارتی ایجنٹ گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بھارت اور دیگر ملک دشمن ایجنسیاں پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں
ترجمان الدعوۃ
ترجمان نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور گزشتہ ہفتے سری لنکا میں پاکستانی وزیرخارجہ اور میزبانوں کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی ہوا تھا۔

مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتے لیکن اس حملے میں وہ بیرونی عناصر ملوث ہیں جو پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ القاعدہ یا دیگر شدت پسندوں کو سری لنکا کے کرکٹروں سے کوئی مطلب نہیں ہے اور منطقی طور پر اس میں ان عناصر کے ملوث ہونے کا کوئی امکان ہو ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سری لنکا میں تمل باغیوں کے خلاف کارروائیوں پر خوش نہیں ہے اور وہ اس حوالے سے ناصرف سری لنکا بلکہ پاکستان پر بھی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس حملے میں پاکستان کے دشمن ملوث ہیں جو ملک کو بدنام کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہاں نہ سرمایہ کاری ہو اور نہ غیر ملکی کھلاڑی آئیں۔

انہوں نے گورنر پنجاب کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا کہ ان حملوں میں وہ لوگ ملوث ہو سکتے ہیں جو ممبئی حملوں میں ملوث تھے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ بغیر تحقیق کے بھارت کو اس کارروائی سے بری الذمہ قرار دینا دانشمندی نہیں ہے۔ ’کیونکہ اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اس حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہو‘۔

حملہ آورلاہور میں حملہ
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد