’نشانہ براہِ راست کھلاڑی تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر جس لبرٹی چوراہے پر حملہ کیا گیا وہاں حملہ آور پہلے سے اپنی پوزیشین سنبھال چکے تھے اور کوئی پولیس والا، سادہ پوش سیکیورٹی اہلکار وہاں موجود نہ تھا اور نقاب پوش حملہ آوروں نے اطمینان سے حملہ کیا۔ سری لنکا کی ٹیم لاہور کے فائیو سٹار ہوٹل سے اپنی فلائنگ کوچ میں نکلی جسے ڈرائیور مہر خلیل احمد چلا رہے تھے جبکہ پولیس کی دوگاڑیاں اس کے آگے، ایک پیچھے سیکیورٹی کے لیے تھیں اور اس کے علاوہ ایمبولینس اور ٹریفک کےموٹر سائیکل سکواڈ تھی۔ مہمان ٹیم کی گاڑی میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے علاوہ دیگر آفیشلز بھی سوار تھے۔ یہ گاڑی جب لبرٹی چوک پر پہنچی تو اس پر کئی اطراف سے حملہ کیا گیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل سماء کا دفتر اسی چوک پر واقع ہے اس ٹی وی چینل کے رپورٹر ایمن مفتی نے یہ واقعہ ہوتے دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اچانک بس پر حملہ کیا گیا اور انہوں نے دو دھماکے سنے جس سے کوچ کا رخ مڑگیا۔ اس کے بعد اس پر فائرنگ کردی گئی۔ پولیس کی گاڑیاں بھی نشانہ کی زد میں آئیں اور حملہ آوروں نے ان پر بھی فائرنگ کی البتہ رپورٹر کا کہنا ہے کہ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ حملہ آوروں کا نشانہ مہمان منی بس ہے اور وہ اسے پولیس کی گاڑیوں سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ سماء ٹی وی کے رپورٹر ایمن مفتی کاکہنا ہے کہ وہ اپنے دفتر کی کھڑکی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور انہوں نے دیکھا کہ حملہ آوروں نے بس کی عقب میں آنے والی پولیس کی گاڑی کو بطور خاص نشانہ بنایا۔ ان کے بقول اس گاڑی میں سوار تمام پانچ افراد کو موقع پر ہی ہلاک کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار گاڑی سےنکل کر باہر گرا تو حملہ آور نے اس کے قریب جاکر اس پر فائرنگ کی اور اس کے مرنے کی تصدیق کی۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ٹریفک پولیس وارڈن بھی ہے۔ بس ڈرائیور خلیل احمد کا کہناہے کہ ان پر یکے بعد دیگر دو دستی بم پھینکے گئے تھے جس کے بعد انہوں نے گاڑی کی رفتار بڑھادی تھی اور اس علاقے سے نکلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بم تو سامنے سے سکرین پر پھینکا گیا جو نیچے گرگیا اور انہوں نے اس پر سے بس بھگا دی۔ وہ تمام مسافر کھڑکیاں جن کے پیچھے کرکٹ کے کھلاڑی بیٹھے تھے چھلنی ہیں۔ ونڈ سکرین پر بھی تین سوراخ ہیں جبکہ کھڑکیوں کے نیچے گولیوں کے درجنوں نشانات ہیں جس سے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا نشانہ براہ راست کھلاڑی تھے۔ ٹریفک وارڈن سرور مہمان ٹیم کا روٹ کلیئر کروانے کے لیے وہیں موجود تھے فائرنگ ہوتے ہی انہوں نے زمین پر لیٹ کر اپنی جان بچائی۔ ان کا کہنا ہے کہ اچانک چاروں طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی اور ’فائرنگ کا نشانہ بس تھی اور کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ چند سیکنڈ ناقابل برداشت تھے ’جن میں میں نے پنجاب پولیس کے ایک اہلکارکو اپنے سامنے دم توڑتے دیکھا۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کے بعد صرف ایلیٹ فورس کی ایک گاڑی دکھائی دے رہی تھی اور دوسری غائب تھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوسری گاڑی جائے وقوعہ سے فرار ہوئی یا ملزموں کے تعاقب میں گئی ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک راکٹ لانچر بھی برآمد کیا ہے۔ سٹی کیپٹل پولیس چیف کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ایک راکٹ بھی فائر کیا تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
انسپکٹرجنرل پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے سب مشین گن، جی تھری اور آرپی جی رائفلیں استعمال کی ہیں جن کے خول پولیس نے قبضے میں لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لبرٹی چوک کے اردگرد کم از کم چار مختلف مقامات سے دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد ہوا ہے ۔ ان میں مختلف ساخت کے دستی بم برآمد کیے گئے۔ واقعہ کے وقت لبرٹی مارکیٹ میں بھگدڑ مچ گئی تھی لیکن ایک ٹی وی چینل کی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ چار حملہ آور اطمینان سے جگہ بدل بدل کر فائرنگ کر رہے ہیں۔عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ تین اطراف سے فائرنگ ہوئی۔ دو حملہ آوروں کی دو ٹولیاں اور تین حملہ آوروں کی ایک ٹولی تین اطراف سے فائرنگ کر رہی تھی۔ اس فائرنگ کےدوران فلائنگ کوچ کا ڈرائیور گاڑی بھگا کر اپنی منزل کی جانب لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ ڈرائیورمہر خلیل کا کہنا ہے کہ دوکھلاڑی زیادہ زخمی تھے انہیں ایمبولینس میں بھجوادیاگیا۔ سری لنکا کےکھلاڑیوں کو سٹیڈیم کے اندر ان کے ڈریسنگ روم پہنچایا گیا۔ ان حملہ آوروں نے شلوار قمیض اور بعض نے پینٹ شرٹس اور جاگرز پہن رکھے تھے لیکن کسی حملہ آور کے چہرے کی شناخت نہیں ہوسکی البتہ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ شلوار قمیض والے شخص کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور ایک دوسرا نقاب پوش تھا۔ آئی جی پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کم از کم دس افراد تھے جن میں سے چند بعد میں حسین چوک کی جانب فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو حملہ آور ایک رکشہ لے کر کینٹ کی جانب فرار ہوئے اور چھاؤنی کے علاقے میں انہوں نے رکشہ چھوڑا۔ پولیس نے رکشہ ڈرائیور کو شامل تفتیش کرلیا ہے۔ |
اسی بارے میں لنکن ٹیم پر حملہ، 8 کھلاڑی زخمی، چھ پولیس اہلکار ہلاک03 March, 2009 | پاکستان ’پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش‘03 March, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||