BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش‘

پولیس
سری لنکن کرکٹ ٹیم پر یہ حملہ لبرٹی چوک کے قریب کیا گیا
صدر، وزیراعظم اور ملکی سیاسی اور سماجی جماعتوں کے رہنماؤں نے لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایک بیان میں اس حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس کی فوری تحقیقات کے احکامات جاری کیے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس حملے میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے تاکہ اس دہشت گردی کے پس منظر میں پوشیدہ عزائم سے پردہ اٹھایا جا سکے۔ صدر نے حملے میں زخمی ہونے والوں کے بہترین علاج کی بھی ہدایت کی۔

 صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ اس واقعے میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے ممبئی میں ہوٹلز پر حملے کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا طریقہ کار ممبئی حملوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یوسف رضاگیلانی نے واقعے کی فوری انکوائری کا حکم جاری کرتے ہوئے اسے ملک کی بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔ وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور انہیں سانحے کے بارے میں فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ اس واقعے میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے ممبئی میں ہوٹلز پر حملے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا طریقہ کار ممبئی حملوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔

سابق کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ سری لنکن ٹیم پر حملہ پاکستان اور کرکٹ دونوں پر حملہ ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے جلا وطن رہنما الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فون پر بتایا کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ ملک کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے ارباب اختیار کو مشورہ دیا کہ بغیر ثبوت کے کسی دوسرے ملک پر الزام لگانے کے بجائے ملک کے اندر ان حملوں کے پیچھے کارفرما عناصر کو تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر احتیاط سے ملک کو مزید بدنامی سے بچایا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رکن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ لاہور کے مرکز میں ہونے والی دہشت گردی کی یہ کارروائی سیکیورٹی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ تمام توجہ حفاظتی انتظامات پر ہونی چاہئے تھی صوبے میں پولیس اور بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف ہونے والے اس حملے کی غیر جانبدارانہ اور پیشہ وارنہ تحقیقات کی جائیں۔

حملہ آورلاہور حملہ: تصاویر
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد