رحمان ملک کا استعفی سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے لاہور میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سری لنکا کی کرکٹ پر ہونے والے حملے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد جب وہ میڈیا کے سامنے آئے تو صحافیوں نے اُن پر سوالات کی بوچھاڑ کردی جس پر متعدد صحافیوں کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعہ کے بارے میں سیکورٹی میں کوتاہی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مسترفی ہوجانا چاہیے۔ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ امن وامان برقرار رکھنا ایک صوبائی معاملہ ہے اور وہ کیوں اس پر استعفی دیں۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ پنجاب میں تو منتخب حکومت کو ختم کردیا گیا اور وہاں پر گورنر راج ہے اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا تعلق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ رحمان ملک نے گورنر کا نام تو نہیں لیا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ پولیس اور دوسرے اداروں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور بعض ملک دشمن عناصر پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش‘03 March, 2009 | پاکستان لنکن ٹیم پر حملہ، 8 کھلاڑی زخمی، چھ پولیس اہلکار ہلاک03 March, 2009 | پاکستان پاکستان میں کرکٹ کا مستقبل کیا ہے؟03 March, 2009 | پاکستان ’پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش‘03 March, 2009 | پاکستان جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔03 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||