پاکستان میں کرکٹ کا مستقبل کیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے جس کی براہ راست زد میں کوئی غیرملکی ٹیم آئی ہے۔ تاہم اس سے قبل بھی ایک بار کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ مئی 2002 ء میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان اس وقت منسوخ کردیا گیا تھا جب دونوں ٹیموں کے کرکٹرز یا تو اپنے کمروں میں تھے یا ناشتے کے لئے رسٹورنٹ میں پہنچے تھے اور انہیں لے جانے کے لئے بس تیار کھڑی تھی کہ ہوٹل سے باہر ہونے والے خودکش حملے میں گیارہ فرانسیسی انجینئرز ہلاک ہو گئے۔ نیوزی لینڈ ٹیم کراچی ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل ہی دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس چلی گئی تھی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اگرچہ اس حملے میں براہ راست ہدف نہیں بنی تھی لیکن اس واقعے نے پاکستانی کرکٹ پر براہ راست منفی اثرات مرتب کیے کیونکہ اس کے بعد کوئی بھی سفید فام ٹیم پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں ہوئی۔ درحقیقت اس کی ابتدا نائن الیون کے واقعے کے بعد ہوئی جب غیرملکی ٹیموں نے اس خطے میں خود کو غیرمحفوظ سمجھتے ہوئے یہاں آنے سے انکار کرنا شروع کردیا۔ فروری 2002ء میں ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان میں اسی جواز کے تحت کھیلنے سے انکار کردیا تھا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ تین ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز شارجہ میں کھیلے۔ اسی سال آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن اس نے بھی ویسٹ انڈیز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو نیوٹرل مقام پر کھیلنے پر مجبور کردیا۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان وہ سیریز کولمبو اور شارجہ میں کھیلی گئی۔ سفید فام ٹیموں کے پاکستان آنے سے انکار کے بعد پاکستانی کرکٹ تنہا ہوتی محسوس ہوئی لیکن اس مرحلے پر بھارتی کرکٹ ٹیم نے 2004ء میں پاکستان کا دورہ کرکے پاکستان کرکٹ بورڈ اورپاکستانی حکومت کے اس موقف کو تقویت پہنچائی کہ پاکستان کسی بھی بڑی ٹیم کی میزبانی کے لئے محفوظ جگہ ہے اور سکیورٹی کے بارے میں پائی جانے والی تشویش بے جا ہے۔ بھارتی ٹیم نے حالیہ برسوں میں نہ صرف دو بار پاکستان کا مکمل دورہ کیا بلکہ وہ گزشتہ سال ایشیا کپ کھیلنے بھی پاکستان آئی لیکن ممبئی دہشتگردی کے نتیجے میں بدلتی صورتحال نے اسے بھی پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کرنے پر مجبور کردیا۔ دوسری جانب سفید فام ٹیموں کی پاکستان کے بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ بدستور یہاں آنے کےلئے تیار نہیں ہوئیں۔ اس تمام صورتحال کا سب سے قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ نے نا صرف اپنے پاکستان کے دورے پر تحفظات ظاہر کئے بلکہ ان ٹیموں کی اس پالیسی نے آئی سی سی کو بھی پاکستان کے بارے میں اپنی سوچ ازسرنو تبدیل کرنے پر مجبور کردیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی سے پاکستان کو محروم ہونا پڑا۔
چیمپئنز ٹرافی کے سلسلے میں آئی سی سی نے اپنی سکیورٹی ٹیموں کو بھی پاکستان بھیجا۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ نے آزاد سکیورٹی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کیں اور انہیں پاکستان میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے پر مامور کیا۔ ان ماہرین کی رپورٹس کے بارے میں سننے میں یہی آیا کہ وہ کلی طور پر سکیورٹی انتظامات سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان سکیورٹی انتظامات کے بارے میں پاکستانی حکام نے تفصیلی اور جامع بریفنگ کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور ہمیشہ یہی سننے میں آیا کہ ان انتظامات پر سب نے مکمل اطمینان ظاہر کیا ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران انٹرنیشنل کرکٹ کے متاثر ہونے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ چند شہروں تک ہی محدود ہوکر رہ گئ اور اس کی وجہ بھی سکیورٹی خدشات تھے۔ انہی ٹیموں کے اصرار پر پشاور کو ٹیسٹ سینٹر کی فہرست سے نکال باہر کیا گیا۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ جب اسلام آباد کی لال مسجد کا واقعہ ہوا تو اس وقت آئی سی سی کے حکام چیمپئنز ٹرافی کے انتظامات کا جائزہ لینے پاکستان میں ہی تھے۔ سری لنکن ٹیم پر ہونے والا حملہ اس اعتبار سے غیرمعمولی نوعیت کا ہے کہ جب دوسری ٹیمیں پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں تھیں سری لنکا نے پاکستانی کرکٹ کے ساتھ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی اور اس نے دو حصوں میں یہ دورہ کیا۔ پہلے مرحلے میں وہ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئی تھی اور کراچی اور لاہور میں کھیل کر وطن واپس چلی گئی تھی تاہم دوسرے مرحلے میں اسے اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد اس بارے میں دو آرا نہیں ہوسکتیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل اسپورٹس اور خاص کر کرکٹ اب تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ غیرملکی ٹیمیں پہلے ہی پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں تھیں اس واقعے کے بعد ان کے انکار میں شدت اور ٹھوس جواز پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان پڑوسی ملکوں کے ساتھ 2011 ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا ہے جس پر ممبئی دہشت گردی کے بعد ہی سوالیہ نشان لگ گیا تھا اب سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد آئی سی سی کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہوگیا ہے جو پہلے ہی سفید فام رکن ممالک کے زبردست دباؤ میں رہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کے لئے یہ انتہائی مشکل صورتحال ہے کہ وہ ورلڈ کپ کو کس طرح بچاتے ہیں؟۔ آئی سی سی اگر بھارت کے دباؤ میں آکرورلڈ کپ کو برصغیر سے منتقل نہیں کرتی تب بھی پاکستان کیا چند میچوں کی میزبانی کرسکے گا؟ یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ لاہور دہشت گردی کے نتیجے میں بڑی ٹیمیں درکنار اب چھوٹی ٹیمیں بھی خوف میں مبتلا ہونگی۔ | اسی بارے میں چیمپیئنز ٹرافی، فول پروف سکیورٹی02 August, 2008 | کھیل آسٹریلیائی دورہ، سیکیورٹی خدشات15 September, 2008 | کھیل چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں نہیں 01 February, 2009 | کھیل کرکٹ: پاکستان میں حالات بہتر02 March, 2009 | کھیل لاہور:پاکستانی اوپنرز کا عمدہ آغاز01 March, 2009 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||