BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔

لاہور حملہ آور
حملہ آوروں کو ایک مقامی ٹی وی چینل نے فلم بند کیا
لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد پاکستان کے ٹی وی چینلز پر تجزیوں کا سیلاب آگیا ہے۔

جتنے منہ اتنی باتیں۔ حکومتی عہدیداروں اور سرکاری حکام واقعے کو دہشتگردی کہتے اسکے محرکات کے بارے میں کوئی بھی اندازہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں تو بعض تجزیہ کار اور سابق فوجی پورے شدومد سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ حملہ پاکستان کے خلاف ’پڑوسی ملک‘ کی سازش ہے۔

ان کی رائے ہی ان کی دلیل ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے کہا ’ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ ہم بدلہ لیں گے۔ ہمارے حکمران امریکہ کے ڈر سے بھارت کا نام لینے سے بھی شرماتے ہیں۔‘

 ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ ہم بدلہ لیں گے۔ ہمارے حکمران امریکہ کے ڈر سے بھارت کا نام لینے سے بھی شرماتے ہیں۔
سابق آئی ایس آئی سربراہ حمید گل
حملے کو سرحد پار سے جوڑنے والے نجی ٹی وی کے تجزیہ کار کامران خان نے کہا ’اس معاملے میں اب اندازہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ دہشتگرد کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ اب پاکستان کو چاہیے کہ خاموش نہیں بیٹھے اور عالمی سطح پر اس واقعے کو اسی طرح اٹھائے جس طرح بھارت نے ممبئی حملوں کے معاملے کو اٹھایا تھا۔‘

اسلام آباد کے سرکاری ’تھنک ٹینک‘ سے منسلک رہنے والی ایک اور سینئر تجزیہ کار شیریں مزاری کا خیال ہے کہ ’سارا طے شدہ منصوبہ ہے۔ سنا ہے حکومت بھارت کا نام نہیں لینا چاہتی۔‘

ایک دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل کہہ رہے تھے کہ ’کون ملوث ہے اس بارے میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن اس بات سے اتفاق کروں گا کہ اس حملے میں ’را‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔‘

ویسے حملہ آور کون ہیں یہ بات یا تو خود حملہ کرنے والے جانتے ہیں یا وہ لوگ جنہوں نے ان سے یہ کام کرایا لیکن اسے اتفاق ہی کہئیے کہ حملے کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا وہاں ایک نجی ٹی وی چینل کا دفتر موجود تھا۔

اب وہی مناظر ٹی وی چینلز پر نشر ہو رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق تفتیش کار ان مناظر کی مدد سے ان حملہ آوروں کے خاکے تیار کررہے ہیں جن کے چہرے فوٹیج میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

سمرا وِیرا آپ کا ردعمل
سری لنکا کی ٹیم پر حملہ، کرکٹ کا مستقبل
حملہ آورلاہور میں حملہ
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد