جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد پاکستان کے ٹی وی چینلز پر تجزیوں کا سیلاب آگیا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ حکومتی عہدیداروں اور سرکاری حکام واقعے کو دہشتگردی کہتے اسکے محرکات کے بارے میں کوئی بھی اندازہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں تو بعض تجزیہ کار اور سابق فوجی پورے شدومد سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ حملہ پاکستان کے خلاف ’پڑوسی ملک‘ کی سازش ہے۔ ان کی رائے ہی ان کی دلیل ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے کہا ’ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ ہم بدلہ لیں گے۔ ہمارے حکمران امریکہ کے ڈر سے بھارت کا نام لینے سے بھی شرماتے ہیں۔‘ اسلام آباد کے سرکاری ’تھنک ٹینک‘ سے منسلک رہنے والی ایک اور سینئر تجزیہ کار شیریں مزاری کا خیال ہے کہ ’سارا طے شدہ منصوبہ ہے۔ سنا ہے حکومت بھارت کا نام نہیں لینا چاہتی۔‘ ایک دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل کہہ رہے تھے کہ ’کون ملوث ہے اس بارے میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن اس بات سے اتفاق کروں گا کہ اس حملے میں ’را‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔‘ ویسے حملہ آور کون ہیں یہ بات یا تو خود حملہ کرنے والے جانتے ہیں یا وہ لوگ جنہوں نے ان سے یہ کام کرایا لیکن اسے اتفاق ہی کہئیے کہ حملے کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا وہاں ایک نجی ٹی وی چینل کا دفتر موجود تھا۔ اب وہی مناظر ٹی وی چینلز پر نشر ہو رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق تفتیش کار ان مناظر کی مدد سے ان حملہ آوروں کے خاکے تیار کررہے ہیں جن کے چہرے فوٹیج میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’نشانہ براہِ راست کھلاڑی تھے‘03 March, 2009 | پاکستان ’پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش‘03 March, 2009 | پاکستان پاکستان میں کرکٹ کا مستقبل کیا ہے؟03 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||