BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 March, 2009, 04:27 GMT 09:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقے میں چودہ اہلکار قتل

تشدد میں ہلاک (فائل فوٹو)
قتل ہونے والے اہلکاروں کا تعلق مقامی قبائل سے تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے خاصہ دارفورس کے چودہ اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔

ابتدائی طور پر دس لاشیں برآمد کی گئی تھیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عائشہ کورونہ کے ایک پہاڑی نالے سے خاصہ دار فورس کی مزید چار لاشیں ملی ہیں جس کے ساتھ ملنے والی لاشوں کی تعداد چودہ ہوگئی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ نے تمام لاشوں کو یکہ غونڈ پہنچا دیا ہے اور علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

خاصہ دار فورس کے پندرہ اہلکار گزشتہ رات نامعلوم شدت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔

مہمند ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ رسول خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو تحصیل یکہ غونڈ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور شمال کی جانب عمر بانڈہ اورعایشہ کورونہ کے پہاڑی علاقوں سے مقامی لوگوں کو خاصہ دار فورس کے دس اہلکاروں کی لاشیں ملی تھیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا۔

ہلاک ہونے والے خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کا تعلق مقامی قبائل سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ یکہ غونڈ کے تحصیلدار ارشد علی بھی گزشتہ رات خاصہ دار فورس کے ساتھ مقامی طالبان نے اغواء کیا ہے جس کی رہائی کے لیے پولیٹکل انتظامیہ مقامی قبائل کے ایک جرگے کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن ابھی تک کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ شام عمر بانڈہ کے رہائشی ملک نور زادہ کو کچھ نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے اغواء کرنے کی کوشش کی جس پر ملک نور زادہ نےمقامی خاصہ داروں سے رابطہ کیا جس کے بعد نامعلوم شدت پسندوں اور خاصہ دار فورس کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان نے اس واقعہ ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے ترجمان اکرام اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو ہلاک کیا جائے لیکن جب انہوں مزاحمت کی تو مجبوراً ان کو ہلاک کیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یکہ غونڈ کے تحصیلدار ارشد علی بھی ان کے تحویل میں ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کے خلاف جاری کارروائی بند نہیں کی گئی تو مزید حملے کریں گے۔

یاد رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں فائر بندی کے بعد مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اس واقعہ سے دو دن پہلے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورس کے اہلکاروں پر حملہ ہوا تھا جس میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد