کوئٹہ:دھماکے کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں پشتو کے معروف صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار پر دھماکے کے خلاف آج یہاں کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے اور مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں پشتون قوم کے نوادرات کی حفاظت اور چوری شدہ نوادرات کی واپسی کے لیے اقوام متحدہ کردار ادا کرے۔ یہ احتجاجی ریلی پشتونخواہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام نکالی گئی جس سے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے قائدین نے بھی خطاب کیا ہے اور اس موقع پر سخت نعرہ بازی کی گئی ہے۔ مقررین نے کہا ہے کہ رحمان بابا ایک شاعر ہی نہیں بہت بڑے عالم تھے اوران کے مزار پر حملہ پشتون قوم پرحملہ ہے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی خفیہ ایجنسیوں کے پروردہ اہلکار ہی کر رہے ہیں اور حکومت خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے کابل کے عجائب گھر سے نوادرات فوجیوں نے چرائے ہیں اور بیرون ممالک فروخت کر دیے ہیں‘۔ عثمان کاکڑ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ قومی مقبروں اور نوادرات کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے اور چوری شدہ نوادرات واپس کابل کے عجائب گھر میں رکھوائی جائیں جو پشتون قوم کا اثاثہ ہیں۔ اس احتجاجی ریلی سے پشتونخواہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما احمد جان اور نصراللہ زیرے نے بھی خطاب کیا ہے۔ دو روز پہلے پشاور کے ہزار خوانی کے علاقے میں قائم رحمان بابا کے مزار میں ایک زور دار دھماکہ ہوا تھا جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ رحمان بابا کا مزار پشاور کے مضافاتی علاقے ہزار خوانی میں انیس سو چورانوے میں تعمیر کیا گیا تھا۔ پشتو کے نامور شاعر عبدالرحمان جنہیں عقیدت سے پشتون رحمان با با کے نام سے یاد کرتے ہیں پشتونوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے صوفی شاعر ہیں۔ رحمان با با سنہ سولہ سو پچاس میں پیدا ہوئے تھے اور سترہ سو پندرہ میں وفات پاگئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||