BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 March, 2009, 09:21 GMT 14:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصالحت کی کوششیں جاری
فائل فوٹو: مارچ 2008
کیا اسفندیار ولی اور مولانہ فضل الرحمان پی ایم ایل این اور صدر کے درمیان مفاہمت کرا سکیں گے؟
حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مصالحت کی کوششیں جاری ہیں اور جمعرات کو مولانا فضل الرحمان اور اسفندیار ولی نے ںدر اصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے منگل کو نواز شریف سے ملاقات کے بعد پیش رفت کا اعلان کیا تھا۔

تاہم نواز شریف اور صدر زرداری کے درمیان مصالحت کی ان کوششوں کے باوجود بدھ کو شہاز شریف نے ایوان عدل میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کے وعدوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور اب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو آگے آنا چاہیے۔

 تاہم نواز شریف اور صدر زرداری کے درمیان مصالحت کی ان کوششوں کے باوجود بدھ کو شہاز شریف نے ایوان عدل میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کے وعدوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور اب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو آگے آنا چاہیے۔

نواز شریف سے ملاقات
جعمیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی نے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا ہے وہ مطمئن ہوکر واپس جا رہے ہیں۔

جن نکتوں پر مفاہمت کی کوشش ہو رہی ہے ان کا اشارہ اسفندیار ولی نے یہ کہہ کر دیا کہ نواز بردارن کی نااہلی ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے عدالتوں سے باہر ہی حل کیا جانا چاہیے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملاقات کے بعد وہ پر امید ہیں انہیں تعاون مل رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انہیں نواز شریف نے چند تجاویز دی ہیں جو وہ اب صدر کے پاس لے کر جائیں گے۔ تاہم اس موقع پر نواز شریف نے کوئی بات کرنے سے انکار کیا۔

اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف سے محض یہ معلوم کرنے آئے تھے کہ مفاہمت کا آیا کوئی راستہ ہے یا نہیں۔ ’اب یہاں سے میں زیادہ مطمئن ہوکر جا رہا ہوں۔ اچھا تاثر لے کر جا رہا ہوں۔‘

تاہم دونوں رہنماؤں نے نواز شریف کی تجاویز کے بارے میں ابھی کچھ بتانے سے گریز کیا۔

 جن نکتوں پر مفاہمت کی کوشش ہو رہی ہے ان کا اشارہ اسفندیار ولی نے یہ کہہ کر دیا کہ نواز بردارن کی نااہلی ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے عدالتوں سے باہر ہی حل کیا جانا چاہیے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملاقات کے بعد وہ پر امید ہیں انہیں تعاون مل رہا ہے۔

ایک جانب حکومت اور حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے درمیان مصالحت کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف وکلاء اور سیاسی جماعتیں بارہ مارچ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے لیے آخری تیاریاں مکمل کر رہی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں، وکلاء اور سول سوسائٹی نے عدلیہ کی بحالی سے متعلق ایک قومی کانفرنس منعقد کی جس میں لانگ مارچ کے لیے لائحہ عمل کو حمتی شکل دی گئی ہے۔

وکلا نے اجلاس میں مطالبہ کیا کہ لانگ مارچ سے متعلق فیصلوں کا اختیار انہیں دیا جائے۔

کانفرنس میں وکلاء کے پرامن مارچ کے کراچی سے بارہ مارچ کو مرحلہ وار آغاز سے متعلق تفصیلی پروگرام بھی جاری کیا گیا ہے۔

بارہ مارچ کو کراچی اور کوئٹہ سے روانہ ہونے والے وکلاء سکھر میں رات کا قیام کریں گے جس کے بعد تیرہ مارچ کو وہ اپنا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔ چودہ مارچ کو لاہور سے روانگی ہے جبکہ یہ قافلہ پندرہ مارچ کو راولپنڈی پہنچے گا جہاں سے یہ اگلے روز اسلام آباد کے لیے سفر کرے گا اور وہاں غیرمعینہ مدت کے لیے دھرنا دے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی لانگ مارچ سے متعلق اعلیٰ سطح پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح ڈیل کیا جائے گا۔ حکومتی ترجمان شیری رحمان کا کہنا تھا کہ مارچ کے شرکاء کے علاوہ اسلام آباد میں شہریوں اور سفارتی برادری کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

عدلیہ کی بحالی سے متعلق قومی کانفرنس اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں وکلاء رہنماؤں کے علاوہ حزب اختلاف کی اکثر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔

اجلاس کے آغاز میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن نے مطالبہ کیا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کے بارے میں فیصلوں کا اختیار انہیں دیا جائے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مارچ اور دھرنے میں بھرپور شرکت کا اعلان دوہرایا تاہم انہوں نے صدر آصف علی زرداری پر اپنی کڑی تنقید کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ آمروں سے زیادہ جمہوریت مخالف پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق کرکٹر عمران خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک صرف وکلاء کی نہیں بلکہ سب کی قومی تحریک ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے بھی وکلاء کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ نظام عدل صرف وکلاء کا نہیں بلکہ تمام قوم کا مسئلہ ہے۔

حیدر آباد سے نامہ نگار علی حسن نے بتایا کہ رسول بخش پلیجو نے ایک اخباری کانفرنس میں پچھلے لانگ مارچ سے زیادہ بھرپور انداز میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ برس لانگ مارچ میں ان کی جانب سے خواتین کے ایک بڑے گروپ نے شرکت کی تھی۔

نواز شریف اور آصف زرداری(فائل فوٹو)سیاسی مصالحت
پی پی پی، مسلم لیگ (ن) مصالحت ناممکن نہیں
منظور وٹو (فائل فوٹو)ایساکب نہیں ہوا!
شریف نااہلی جیسے واقعات تاریخ میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد