BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 March, 2009, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی کو سینیٹ میں بھی اکثریت

سینیٹ
اس برس اکتیس سینیٹر بلا مقابلہ منتخب ہوئے
بدھ کو پارلیمان کے ایوان بالا کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن گئی ہے۔

چار مارچ کے مجوزہ سینیٹ کے انتخاب کے لیے پچاس نشستوں پر انتخاب ہونا تھا لیکن حکمران پیپلز پارٹی نے دیگر سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے اکتیس نشستوں پر بلامقابلہ امیدواروں کو کامیاب کروا لیا تھا جبکہ انیس نشستوں کے لیے بدھ کو پولنگ ہوئی۔

بلا مقابلہ منتخب ہونے والے اکتیس سینیٹرز میں سے پیپلزپارٹی کے سترہ، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے تین تین ، مسلم لیگ نواز کے چھ اور مسلم لیگ (ق) اور جمیعت العلمائے اسلام کے ایک ایک سینیٹر ہیں۔ پیپلز پارٹی نے آٹھ سندھ سے چار پنجاب، دو اسلام آباد اور تین صوبہ سرحد کی سیٹیں بلا مقابلہ جیتیں۔

ان نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے سندھ سے آٹھ، پنجاب سے چار، اسلام آباد سے دو اور صوبہ سرحد سے تین سیٹیں حاصل کیں۔متحدہ قومی موومنٹ کو صوبہ سندھ سے تین جبکہ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب سے چھ اور مسلم لیگ (ق) کو پنجاب سے ایک نشست ملی۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی چار نشستوں کے لیے چونتیس امیدواروں نے انتخاب میں حصہ لیا لیکن الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق حاجی خان آفریدی، ادریس صافی، عباس خان اور انجنیئر رشید احمد کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

 مسلم لیگ (ن) کے ٹیکنو کریٹ کے امیدوار اقبال ظفر جھگڑا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پر ایک اور وعدہ خلافی اور معاہدہ توڑنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے پنجاب سے چار اور اسلام آباد سے دو امیدواروں کی بلا مقابلہ کامیابی کے نتیجے میں انہوں نے پشاور سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر انہیں کامیاب کرانا تھا لیکن پیپلز پارٹی عین وقت پر اپنے وعدے سے پِھرگئی۔

فاٹا کے قومی اسمبلی میں بارہ اراکین ہیں جبکہ سینیٹ میں آٹھ ممبر ہیں۔ فاٹا کے سینیٹرز کا انتخاب اراکین قومی اسمبلی کرتے ہیں۔ بارہ میں سے ایک نشست خالی ہے اور گیارہ اراکین کو ووٹ ڈالنا تھا لیکن فاٹا کے کل نو اراکین نے رائے شماری میں حصہ لیا۔

ماحولیات کے وفاقی وزیر حمیداللہ خان آفریدی اور پیپلز پارٹی کے اخوند زادہ چٹان نے ووٹ نہیں ڈالا۔ ان کا کہنا ہے کہ فاٹا کے سینیٹر بننے کے لیے ووٹ فروخت ہوتے ہیں اور انہوں نے اس لیے ووٹ نہیں ڈالا کہ کوئی ان کے کردار پر شک نہ کرے۔

کوئٹہ سے عزیز اللہ خان کے مطابق صوبہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں پیپلز پارٹی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی کسی امیدوار کو بلامقابلہ کامیاب نہیں کروا سکی۔ پینسٹھ اراکین پر مشتمل بلوچستان اسمبلی سے گیارہ سینیٹرز منتخب کرنے کے لیے تریسٹھ اراکین نے ووٹ ڈالا۔

اکبر مگسی
گورنر بلوچستان کے بھائی اکبر مگسی جو آزاد حیثیت میں سینیٹر منتخب ہوئے ہیں

الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق سات عمومی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے لشکری رئیسانی اور صابر بلوچ، گورنر بلوچستان کے بھائی اکبر مگسی اور ولی محمد بادینی آزاد حیثیت میں، جمیعت علماء اسلام (ف) کے مولانا محمد خان شیرانی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے محمد علی رند اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو منتخب ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تین سینیٹر منتخب ہوئے۔ بلوچستان کےگورنر کے بھائی اکبر مگسی آزاد حیثیت میں منتخب ہوگئے لیکن ان کے بھتیجے اور سوتیلے بیٹے اورنگزیب عالمگیر جو پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے وہ ہار گئے۔

بلوچستان سے خواتین کی دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کی ثریا امیر الدین اور آزاد حیثیت میں کلثوم پروین، ٹیکنو کریٹ کی دو نشستوں پر جمیعت علماء اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری اور آزاد حیثیت میں انجنیئر ہمایوں خان منتخب ہوگئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی ثریا امیر الدین
پیپلز پارٹی کی ثریا امیر الدین خواتین کے لءیے مخصوص نشست پر کاامیاب ہوئیں

پشاور سے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صوبہ سرحد کی سینیٹ کی گیارہ میں سے سات عمومی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے گلزار احمد خان، ان کے بیٹے وقار احمد اور سردار علی، عوامی نشینل پارٹی کے زاہد خان، حاجی عدیل اور عبدالنبی بنگش اور جمیعت علماء اسلام کے حاجی غلام علی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

 بلا مقابلہ منتخب ہونے والے اکتیس سینیٹرز میں سے پیپلزپارٹی کے اٹھارہ، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے تین تین ، مسلم لیگ نواز کے چھ اور مسلم لیگ (ق) کے ایک سینیٹر ہیں۔

واضح رہے کہ گلزار احمد خان کے ایک بیٹے عمار احمد خان پہلے ہی مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر سینیٹر ہیں اور یوں اب ایک ہی گھر سے تین افراد بیک وقت سینیٹر بن گئے ہیں۔

بدھ کو صوبہ سرحد سے دو ٹیکنو کریٹ اور دو خواتین کی نشستوں کے لیے پولنگ ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق خواتین کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی فرحت عباس اور عوامی نیشنل پارٹی کی فرح عاقل جبکہ ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے عدنان خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے افراسیاب خان منتخب ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے ٹیکنو کریٹ کے امیدوار اقبال ظفر جھگڑا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پر ایک اور وعدہ خلافی اور معاہدہ توڑنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے پنجاب سے چار اور اسلام آباد سے دو امیدواروں کی بلا مقابلہ کامیابی کے نتیجے میں انہوں نے پشاور سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر انہیں کامیاب کرانا تھا لیکن پیپلز پارٹی عین وقت پر اپنے وعدے سے پِھرگئی۔

سینیٹ میں اب عددی اعتبار سے پیپلز پارٹی پہلے، مسلم لیگ (ق) دوسرے اور مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت تیسرے نمبر پر آگئی ہے اور پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں کی مدد سے سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو باآسانی منتخب کروا سکتی ہے۔

سینیٹپارٹی کے وفادار
پی پی پی، زیادہ سینیٹ سیٹس جیالوں کے لیے
زرداریپیپلز پارٹی کا فیصلہ
سینیٹ الیکشن کے لیے امیدواروں کا اعلان
کون، کیسے، کہاں
چار مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے انتخابات
سینیٹدرخواستیں جمع
سینیٹ کی ٹکٹوں کے لیے دوڑ دھوپ تیز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد