BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 February, 2009, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عافیہ کے بارے میں علم نہیں‘

مظاہرہ
خارجہ اور دفاع کی وزارتوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی کراچی سے گرفتاری اور ان کی امریکہ حوالگی کے حوالے سے لاعلم ہیں
پاکستان حکومت نے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری سے لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

حکومت کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو گزشتہ سال سترہ جولائی کو غزنی سےگرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری ہے اور ان کی اپنے بھائی سے بھی ملاقات ہوچکی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بنچ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ان کی امریکہ منتقلی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کی جانب سے تحریری جواب داخل کیا گیا۔

دونوں وزارتوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی کراچی سے گرفتاری اور ان کی امریکہ حوالگی کے حوالے سے وہ لاعلم ہیں۔

وزارت خارجہ نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ وہ مس ریڈلی کی پریس کانفرنس سے باخبر ہیں مگر قیدی نمبر چھ سو بیس کے بارے میں بیان سے لاعلم ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ اور افغانستان حکومت کی جانب سے وزارت کو بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو سترہ جولائی کو افغان پولیس نے گرفتار کیا اور تین اگست کو انہیں امریکہ منتقل کیا گیا۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہیں سترہ جولائی سے قبل ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ انہیں غزنی میں افغان گورنر ہاؤس کی چاردیواری سے ’مشکوک سرگرمیوں‘ کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ افغان حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کو گرفتار کیا اور اس بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کیا گیا۔

وزارتِ خارجہ کا موقف
وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ اور افغانستان حکومت کی جانب سے وزارت کو بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو سترہ جولائی کو افغان پولیس نے گرفتار کیا اور تین اگست کو انہیں امریکہ منتقل کیا گیا۔

’امریکی حکام ان سے غزنی پولیس سٹیشن پر پوچھ گچھ کر رہے تھے تو انہوں نے ہتھیار چھین کر ایف بی کے اہلکار پر حملہ کیا۔ اس دوران جوابی حملے میں وہ زخمی ہوگئیں اور ان کے پیٹ میں ایک گولی لگی۔ یہ زخم جان لیوا نہیں تھا انہیں علاج کی مطلوبہ سہولیات فراہم کی گئیں‘۔

وزرات نے مزید بتایا کہ امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے بارے میں معلومات رکھنے اور ایف بی آئی حکام پر حملے کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔

پاکستان کی وزرات خارجہ نے مزید بتایا کہ یہ معاملہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے رکھا گیا جس میں ڈاکٹر عافیہ کا علاج کسی خاتون ڈاکٹر سے کرانے، اگر ضروت ہو تو ہسپتال میں داخلے، انہیں اور ان کے بچوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

حکومت نے بتایا کہ امریکی حکام نے انہیں جواب دیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور لیڈی ڈاکٹر تک رسائی دی گئی ہے۔ اگر ضرورت پیش آئی تو انہیں ہسپتال میں داخل کرایا جائے گا۔

انہیں واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے تک بھی رسائی دی گئی ہے اور ڈاکٹر عافیہ کے بھائی بھی ان سے ملاقات کرچکے ہیں۔ انہیں پاکستان حوالے کرنے کا فیصلہ امریکہ کے قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

عدالت نے درخواست گذار کو حکومت کے موقف کی روشنی میں جواب دائر کرنے کی ہدایت کی اور سماعت تیرہ مارچ تک ملتوی کردی۔

یہ پٹیشن ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے رہنما انتخاب سوری کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مارچ سنہ دوہزار تین کو ڈاکٹر عافیہ کو کراچی سے گرفتار کرکے غیر قانونی طریقے سے منتقل کیا گیا ہے۔ یہ استدعا بھی کی گئی ہے انہیں وطن واپس لایا جائے اور اس کارروائی میں جو اہلکار ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے کئی بار نوٹس جاری کرنے کے بعد آخر حکومت کی جانب سے جواب دائر کیا گیا ہے۔

’ہلو برادر ٹائپ ‘
ڈاکٹر عافیہ کس طرح کی خاتون ہیں؟
قیدی نمبر650
ڈاکٹر عافیہ کیس، وزارت داخلہ کو نوٹس جاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد