’نواز شریف پر این آر او لگایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے تائید کنندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف مقدمات بھی قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کے تحت ختم کیے جائیں۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں میاں نواز شریف اور وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اگر این آر او کے تحت صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر سیاستدانوں کے خلاف دائر مقدمات ختم کیے جاسکتے ہیں تو نواز شریف کو اس کا فائدہ کیوں نہیں دیا جاسکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک طرح کا امتیازی قانون ہے یا تو اسے مکمل طور پر لاگو کیا جائے یا پھر اس کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کے خلاف طیارہ اغوا کرنے کا مقدمہ بھی سیاسی بنیادوں پر درج کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ کیسا مقدمہ تھا کہ میاں نواز شریف خود اسلام آباد میں ہوتے ہوئے کراچی میں طیارے کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ این آر او کے خلاف سابق بیوروکریٹ روئیداد خان نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی وہ پیروی کریں گے۔ واضح رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی مصالحت کے بعد قومی مصالحتی آرڈیننس لایا گیا تھا جس کے تحت بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری، وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک سمیت دیگر افراد کے خلاف درج مقدمات اس بنیاد پر ختم کر دیئے گئے تھے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر درج کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 123 سے میاں نواز شریف مدمقابل اُمیدوار نور الٰہی کے وکیل قاضی محی الدین نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں مجرم قرار دیا جاچکا ہے اس کے علاوہ اُنہیں 25 سال تک کسی بھی الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک عرصہ سے قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے جس سے وہاں کے عوام مشکلات سے دوچار ہیں۔ سماعت کے دوران میاں نواز شریف کے تائید کنندہ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ میاں نواز شریف کو جو سزا دی گئی تھی اُسے اُس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے معاف کر دیا تھا جس پر بینچ میں شامل جسٹس شیخ حاکم علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر میاں نواز شریف عدالت میں پیش ہوں تو اُن کو دی جانے والی سزاؤں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ قاضی محی الدین نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف پی سی او ججوں کو تسلیم نہیں کرتے اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔اُنہوں نے کہا کہ اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ جرم کسی اور نے کیا اور اُس کا مقدمہ لڑنے کے لیے کوئی دوسرا شخص عدالت میں پیش ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں میں بنائے گئے ایک اور فریق فیڈریشن نے عدالت میں میاں نواز شریف کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے وسیع تر بینچ تشکیل دینے کی درخواست نہیں دی۔ میاں نواز شریف کے تائید کنندہ کے وکیل اے کے ڈوگر نے جمعرات کو الزام عائد کیا تھا کہ لارجر بینچ کی تشکیل کے بارے میں دائر درخواست کی سماعت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا رویہ تعصب پر مبنی ہے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت 2 فروری تک ملتوی کر دی۔ | اسی بارے میں مسلم لیگ: بِل پیش کر رہے ہیں27 January, 2009 | پاکستان ’اِسی عدالت کو قبول کرنا ہوگا‘27 January, 2009 | پاکستان بہشتِ مرحوم کی یاد میں27 January, 2009 | پاکستان گجرات: کالج کے طلبہ کا مظاہرہ28 January, 2009 | پاکستان پی پی پی۔مسلم لیگ رشتہ فی الحال نرم28 January, 2009 | پاکستان عدلیہ پر انگلی نہ اٹھنے دیں: وکیل28 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||