BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 January, 2009, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نئی انتظامیہ کو قائل کر پائیں گے‘

قریشی
امریکی حکومت کی جانب سے اس وقت تک ڈرون حملوں کے فیصلے سے سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ نئی امریکی انتظامیہ سے باضابطہ رابطے کے بعد وہ انہیں قبائلی علاقوں میں جاری میزائل حملوں سے متعلق اپنے قومی نکتہ نظر سے آگاہ اور اس پر قائل کر پائیں گے۔

یہ بات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کی۔ منگل کی شب ہوئے اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں امریکی حکومت کی جانب سے اس وقت تک کسی ایسے فیصلے سے سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف حملے جاری رکھے گی۔

امریکی سینیٹ میں آرمڈ فورسز سروس کے اجلاس کے دوران اس سوال پر کہ امریکی محکمہ دفاع کا پاکستانی حکومت کی جانب سے میزائل حملوں کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنے کے مطالبے پر کیا ردعمل ہے، امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا ’مجھے یہ کہنے دیں کہ صدر بش اور صدر اوباما یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ہم ہر اس جگہ القاعدہ کا پیچھا کریں گے جہاں وہ موجود ہیں۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کے لیے تعینات خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کو ایک خط بھی لکھا ہے اور ان سے جلد ایک ملاقات کی بھی توقع کر رہے ہیں جس میں ان موضوعات پر بات کی جائے گی۔ ’پھر دیکھیے بات کس نتیجے پر پہنچتی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کا خیال ہے کہ ان حملوں میں وہ اپنے ’ہائی ویلیو‘ اہداف کو نشانہ بناتے ہیں جس سے انہیں کامیابی ہوتی ہے۔ ’ہمارا مؤقف ہے کہ ان حملوں سے انہیں یقیناً کامیابی بھی ہوتی ہوگی لیکن اس سے عام شہری بھی مارے جا رہے ہیں۔ ان سے ان عناصر کو تقویت ملتی ہے جن کو ہم شکست دینا چاہتے ہیں۔‘

پاکستان کی جانب سے محض زبانی احتجاج تک ردعمل محدود رکھنے کے بارے میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پارلیمان، وزیر اعظم اور وزارت خارجہ اس بابت قومی خیالات کی ترجمانی مختلف اوقات میں کرچکے ہیں۔

’ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حلیف ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے خیالات کو نا صرف سننا بلکہ سمجھنا بھی ہوگا۔ ہمارے تعاون سے ہی بات آگے بڑھے گی۔امریکہ اور باقی دنیا پاکستان کے تعاون کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس اعتراف کے ساتھ انہیں پاکستان کی مشکلات کا احساس بھی کرنا ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ نے ابھی ابھی اقتدار سنبھالا ہے اور ان سے ان کا ابھی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ ان کا میونخ میں نئی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے ملاقات ہوسکے گی۔ ’یہ جب بھی ہوا میں اپنا نکتہ نظر جو پوری قوم کا ہے ان کے سامنے رکھو گا۔‘

قبائلی علاقوں میں جاری امریکی حملوں سے پیپلز پارٹی حکومت شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ کئی حلقے حکومت پر سفارتی تعلقات منقطع کرنے یا افغانستان میں موجود نیٹو افواج کا سامان رسد پاکستان کے راستے بھجوانے پر پابندی جیسے مطالبات بھی کیے ہیں تاہم حکومت احتجاج سے آگے نہیں بڑھی ہے۔

سابق وزیر داخلہ حامد نواز کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کو اس مسئلے کا حل سیاسی طریقے سے حاصل کرنا چاہیے۔

’پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اعلان کرے کہ وہ اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے گا۔ اسی طرح پارلیمان سے سپلائی لائن کے بارے میں بھی قرار داد منظور کرواسکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں
تسلیاں گیلانی کی !
20 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد