تسلیاں گیلانی کی ! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو برس قبل موسمِ گرما میں جب کراچی اور دیگر شہروں میں ڈینگی بخار وبائی صورت اختیار کرگیا اور حکومت پر اس وبا کی روک تھام کے سلسلے میں تساہلی برتنے کا الزام لگنے لگا تو اس وقت کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے عوام کو یہ کہہ کر دلاسہ دیا کہ گھبرانے کی بات نہیں ۔دو ڈھائی ماہ بعد جب سردیاں شروع ہوں گی تو ڈینگی پھیلانے والا مچھر بھی ختم ہوجائے گا ۔ اسی طرح جب موجودہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے کوئی دوماہ پہلے پوچھا گیا کہ آخر امریکی ڈرونز کے حملے کب ختم ہوں گے تو انکا جواب تھا کہ یہ حملے دراصل امریکی انتخابی مہم کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسے ہی انتخابی عمل مکمل ہوگا حملے بھی رک جائیں گے۔اور آج بیس نومبر کو وزیرِ اعظم گیلانی نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ باراک اوباما کے حلف اٹھاتے ہی یہ حملے رک جائیں گے۔ تاہم وزیرِ اعظم نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ یقین دہانی باراک اوباما کی جانب سے کرائی گئی ہے یا تین ماہ میں تیسری مرتبہ اسلام آباد کے دفترِ خارجہ میں احتجاجاً طلب کی جانے والی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کروائی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس برس جولائی میں صدر بش نے ایک خفیہ حکمنامے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت پاکستان کے اندر قابلِ اعتماد اور ٹھوس اطلاعات کی بنیاد پر امریکی فوج اور سی آئی اے کو زمینی و فضائی کارروائی کا اختیار دیا گیا تھا۔ تاہم حکومتِ پاکستان کو مبینہ طور پر اس نئی پیش رفت کے بارے میں بوجوہ اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔جولائی کے بعد سے کوئی دن جاتا ہے جب سرحد پار سے قبائلی علاقوں میں امریکی کارروائی نہ ہوتی ہو۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس برملا کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اپنی سلامتی کے لئے ہر اس جگہ پر کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے جہاں وہ مناسب سمجھے۔امریکی انتخابات سے دو روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے نئے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اسلام آباد میں اگرچہ پاکستان کی اعلی سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقات کی۔ تاہم انکی جانب سے بھی یہ عندیہ نہیں ملا کہ امریکہ مستقبلِ قریب میں سرحد پار حملوں کی پالیسی تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس تناظر میں پاکستانی اہلکاروں کی جانب سے امریکی حملوں میں کمی کی امید حقیقت سے زیادہ خواہش دکھائی پڑتی ہے۔ وزیرِ دفاع احمد مختار کے اعلانیہ اعتراف کے ساتھ ساتھ اعلی فوجی قیادت بھی مبہم انداز میں کہہ چکی ہے کہ اگر امریکہ اپنی حملہ آور پالیسی پر کمر بستہ رھا تو پاکستان کے پاس فی الوقت اتنی صلاحیت یا سیاسی خواہش نہیں ہے کہ وہ ان حملوں کو احتجاج کی سطح سے آگے بڑھ کر چیلنج کرسکے۔ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس بارے میں صرف ایک مرتبہ حملے روکنے کی بابت سیاسی قیادت کی پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی پالیسی کے برعکس بیان دیا۔ لیکن اب انکی جانب سے بھی سیاسی قیادت کی پالیسی کے مطابق برسلز کے نیٹو ہیڈ کوارٹر کے دورے میں محض اس مطالبے کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی حدود میں ڈرونز کی پروازیں بند کی جائیں۔ معلوم نہیں جنرل کیانی کے اس بیان کا کتنا اثر ہوگا۔کیونکہ نیٹو کی فوجی قیادت بارہا پاکستانی حدود میں حملوں سے لاتعلقی ظاہر کرچکی ہے۔نیٹو کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی فوج اور سی آئی اے کے دائرے میں آتی ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکی حملے یکطرفہ عمل ہیں یا سابق صدر مشرف کی حکومت کے ساتھ کسی غیر تحریری سمجھوتے کا شاخسانہ ہیں۔ جب گزشتہ ماہ دہشت گردی کے خلاف قومی حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تو اس دوران حزبِ اختلاف کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ پرویز مشرف کو اس اجلاس میں بلا کر پوچھا جائے کہ انکے دور میں امریکہ کے ساتھ کیا اعلانیہ اور خفیہ وعدے وعید ہوئے تھے۔تاہم زرداری گیلانی حکومت اس مطالبے کو نہایت خوبصورتی سے ٹال گئی ۔اور جب پارلیمنٹ نے تئیس اکتوبر کو دھشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی پر مبنی متفقہ قرار داد منظور کی تو امریکہ نے چند گھنٹے بعد ایک ڈرون حملے کے ذریعے اس قرار داد کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان مسلسل کہتا ہے کہ امریکہ یہ کارروائیاں پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر کررہا ہے۔ جبکہ امریکی حکام دعوی کرتے ہیں کہ زیادہ تر کارروائیوں کی حکومتِ پاکستان کو اطلاع ہوتی ہے۔اس تناظر میں اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ بھی نہایت دلچسپ ہے جس میں امریکہ کے سرکاری اور فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زرداری حکومت اور امریکہ کے مابین زبانی طور پر طے ہوچکا ہے کہ امریکہ حملے جاری رکھے جبکہ پاکستان اندرونِ ملک سیاسی ردِ عمل سے بچنے کے لئے ان حملوں کی مذ مت کرتا رہے۔ حکومتِ پاکستان نے اگرچہ اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن دفترِ خارجہ سمیت کوئی بھی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی ایک ماہ میں دوسری مرتبہ کس بنیاد پر کہہ چکے ہیں کہ اوبامہ حکومت حملے بند کردے گی۔اور اگر بیس جنوری کو اوبامہ کی حلف برداری کے بعد بھی حملے ہوتے رہے تب گیلانی حکومت کیا نیا جواز پیش کرے گی۔ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کا کسی پرانی فلم کی نئی کاپی کی طرح انتظار ہے! | اسی بارے میں ’اوباما حلف اٹھائیں گے تو حملے رک جائیں گے‘20 November, 2008 | پاکستان بنوں، میزائل حملہ، پانچ ہلاک19 November, 2008 | پاکستان جنرل کیانی برسلز روانہ18 November, 2008 | پاکستان اقوامِ متحدہ میں جائیں: مسلم لیگ20 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||