BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2009, 19:29 GMT 00:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ قوم پرست تنظیموں کا احتجاج

ڈیرہ بگٹی (فائل فوٹو)
ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر خان بگٹی کا گھر پولیس، مہمان خانہ فرنٹیئر کور اور سوئی میں واقع بگٹی ہاؤس فوج کے کنٹرول میں ہے
بلوچستان کے مختلف شہروں میں منگل کے روز بلوچ نیشنل فرنٹ میں شامل جماعتوں اور تنظیموں کی اپیل پر ہڑتال کی گئی ہے جبکہ کوئٹہ سے افغانستان جانے والی شاہراہ تیسرے روز بھی بند رہی۔

اطلاعات کے مطابق اور ڈیرہ بگٹی میں فرنٹییر کور کی گاڑی کے قریب دھماکے سے سات افراد کے زخمی ہوئے ہیں۔

یہ ہڑتال بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے بیٹے حیر بیار مری کے خلاف برطانیہ میں قام مقدمات کے حوالے سے کی گئی ہے ۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنما صادق رئیسانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حیر بیار مری کے خلاف قائم مقدمات کو اایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن اب تک ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا ہے۔

صادق رئیسانی کا کہنا ہے کہ آج بلوچستان کے مختلف شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں جبکہ کوئٹہ کو کراچی تفتان اور ادھر جیکب آباد سے ملانے والی شاہراہیں مختلف مقامات پر احتجاج بلاک کی گئی تھیں اور شہروں میں بھی ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان شہروں میں کوئٹہ قلات خضدار دالبندین نوشکی مشکے اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ادھر قلعہ عبداللہ میں ایک قبائلی رہنما کے مکان پر فرنٹییر کور کے چھاپے اور رہنما کے بیٹے کی ہلاکت کے خلاف آج تیسرے روز بھی کوئٹہ کو چمن سے ملانے والی شاہراہ بلاک اور ریل گاڑی کی سروس معطل رہی ہے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ چمن میں مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فرنٹییر کور کے اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور متعلقہ اہلکاروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پیر کوہ میں فرنٹییر کور کی ایک گاڑی کے پاس دھماکہ ہوا ہے جس میں کم سے کم سات اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ دریں اثناء اپنے آپ کا کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے زین کوہ میں توبہ کے مقام پر بھی سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا ہے جس میں فورسز کا نقصان ہوا ہے۔

سرباز بلوچ کے مطابق یہ حملے سوئی میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کی تصویریں اتارنے کے واقعہ کےخلاف کیےگئے ہیں۔ سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں
بالاچ مری کی برسی پر دھماکے
20 November, 2008 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی: جھڑپ میں دو ہلاک
22 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد