2008: عالمی اقتصادی نظام ہل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال دو ہزار آٹھ کے دوران عالمی معیشت ایک ایسے بحران کا شکار رہی جس کے بارے میں بعض عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ انیس سو تیس کے ’گریٹ ڈپریشن‘ کے بعد دنیا میں اس نوعیت کا معاشی بحران دیکھنے میں نہیں آیا۔ امریکہ میں یہ اقتصادی بحران سب سے پہلے بیروزگاری میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ایک برس میں امریکہ میں بیروزگاری کی شرح گزشتہ پندرہ سال میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس سال اب تک 19 لاکھ افراد کی ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں۔امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق صرف اکتوبر میں ہی امریکہ میں بیروزگاری کی شرح 6.5 فیصد سے بڑھ کر 6.7 فیصد پر پہنچ گئی۔ رواں سال کے آغاز ہی میں امریکہ میں مالیاتی اداروں کا بحران بھی سامنے آیا اور مالیاتی اداروں کے دیوالیہ ہونے کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
امریکی معیشت پوری دنیا کی معیشت کا پانچواں حصہ ہے۔ اس لحاظ سے امریکی معاشی بحران سے پوری دنیا میں اقتصادی کساد بازاری اور اس جیسے دیگر کئی امراض کو پھیلانے کا باعث بنا اور رفتہ رفتہ اس بحران نے تقریباً پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ نومبر میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک، جرمنی کساد بازاری کا شکار ہو گئی ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی کی معیشت میں تیسری سہ ماہی میں اعشاریہ پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ دہائی کے مقابلے میں اس وقت سب سے زیادہ ہے اور یہاں کی سب سے بڑی ٹیلی فون کمپنی بی ٹی اس سال دس ہزار نوکریاں ختم کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار میں صفر اعشاریہ دو فیصد کمی کے بعد فرانس کو نکال کر تمام ممالک کو بحران کا شکار قرار دے دیا گیا۔ اس موقع پر یورپی کمیشن کے سربراہ جوز مینویل بروسو نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ بحران صرف کثیر رقوم خرچ کرنے سے ختم ہونے والا نہیں ہے۔ بلکہ یورپی ممالک کو معاشی نظام میں اپنی اپنی حکومتوں کی ساکھ بحال کرنی ہو گی۔ ایشیا میں یہ بحران سب سے پہلے سٹاکس مارکیٹوں پر اثر انداز ہوا۔
روس میں سٹاک مارکیٹ ایک دن میں دس فیصد کم ہونے پر بند کر دی گئی اور برطانیہ اور آسٹریلیا میں ستمبر کے مہینے میں بازار حصص میں قلیل مدت کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی۔ نومبر کے آغاز میں سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت جاپان معاشی سست روی کا شکار ہو چکا ہے۔ کیونکہ گزشتہ چھ میں میں اس کی معیشت کی ترقی کی رفتارمنفی رہی۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت چین میں اقتصادی ترقی کی رفتار میں اعشاریہ نو فیصد کمی واقع ہوئی۔ دنیا کی تیز رفتار ترین معیشت میں یہ گراوٹ پوری دنیا کے لیے بری خبر تھی کیونکہ اس منفی رجحانات کے اثرات، بعض ماہرین کی نظر میں خاصے دور رس ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت کے ماہر شاہد جاوید برکی امریکہ سے شروع ہونے والے اس بحران کے ایشیا تک پھیل جانے کے کی وجہ ایشیائی ملکوں کی جانب سے اپنے زرمبادلہ کے فاضل ذخائر کا غلط استعمال بتاتے ہیں۔ ’ایشیائی ملکوں نے اپنے کھربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر امریکی معاشی نظام میں ڈال دیے جس کی وجہ سے امریکی معاشی بحران نے فوراً ہی ایشیائی ملکوں کو اپنے اثر میں لے لیا‘۔ پاکستان میں اقتصادی بحران ملک کے بیشتر شہروں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے بجلی کی بندش نے عوام کو احتجاج پر مجبور کر دیا۔
بیشتر ماہرین اس بات پر متفق نظر آئے کہ ملک میں گندم اور آٹے کا یہ بحران قدرتی سے زیادہ مصنوعی ہے اور اس کا اصل سبب سرکاری بدانتظامی ہے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لئے دوہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ روزگار کے لئے نئی سکیم شروع کرنے اور انتہائی غریب افراد کی مالی امداد کا بھی اعلان کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے وفاقی ادارے نے ستمبر میں جاری ایک رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا میں مہنگائی کا تناسب پینتیس فیصد تک پہنچ چکا ہے جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اس اضافے نے زندگی کے ہر شعبے میں مہنگائی کو جنم دیا۔افراط زر کی شرح بھی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی اور اگست میں جاری کردہ اعداد و شمار نے اس شرح کو چوبیس فیصد سے بھی زیادہ بتایا۔ افراط زر کی شرح میں اضافے کی دیگر کئی وجوہات بھی ماہرین معیشت نے حاشیہ بند کیں لیکن ان میں اگر کسی ایک کا سب سے زیادہ اثر ہوا تو وہ ماہرین کہ مطابق عالمی منڈیں میں تیل کی قیمتیں تھیں جن میں گزشتہ برس شروع ہونے والے اضافے کے رجحان میں اس سال مزید تیزی آگئی۔ پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اسی تناسب سے اضافہ ہوا اور پٹرول کی فی لیٹر قیمت چھیاسی روپے مقرر کی گئی جو جنوری میں ترپن روپے تھی۔ڈیزل کی قیمت میں ہونے والا اضافہ اس سے بھی زیادہ تھا۔ اس کی وجہ اس وقت کے وزیر خزانہ نوید قمر نے ڈیزل پر دی جانے والی رعایتی قیمت میں بتدریج خاتمے کو قرار دیا۔ اس کے باوجود جب ستمبر میں پٹرول کی قیمت میں نو روپے فی لیٹر کمی کی گئی تو یہ پاکستانی تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی کمی شمار کی گئی۔ تاہم اس موقع پر ملک کے بیشتر پٹرول پمپ بند کر دئیے گئے اور عوام احتجاج پر مجبور ہوئے۔
سٹاک مارکیٹ کا یہ بے مثل انجماد نئے مشیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا۔ وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے تعیناتی کے فوراً بعد شوکت ترین نے سٹاک مارکیٹ انتظامیہ کے اس فیصلے کے بارے میں کہا کہ نا انصافی پر مبنی یہ اقدام زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گا۔ شوکت ترین نے یہ عہد پورا کر دکھایا اور پندرہ دسمبر کو سٹاک مارکیٹ حصص کی خریدو فروخت کے لئے کھول دی گئی جس کے بعد سے یہ مندی کا شکار ہے۔ سٹاک مارکیٹ کے علاوہ گزشتہ کئی برسوں سے جس معاشی اعشاریہ کو پاکستان میں خوشحالی سے تعبیر کیا جا رہا تھا وہ زر مبادلہ کے ذخائر میں استحکام تھا۔ لیکن پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان ذخائر میں بھی تیزی کے ساتھ کمی ہونا شروع ہو گئی۔ اس سال کے آغاز میں سٹیٹ بنک کے پاس محفوظ زر مبادلہ کی مقدار تیرہ ارب ڈالر کے قریب تھی جو نومبر میں کم ہو کر چھ ارب کے قریب رہ گئی۔ حکومت کے لئے یہ ایک خطرناک صورتحال تھی۔ کیونکہ دسمبر میں اسے غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے ضمن میں مختلف مالیاتی اداروں اور ملکوں کو چار ارب ڈالر ادا کرنے تھے۔ جس تیز رفتاری کے ساتھ پاکستان سے ڈالر غائب ہو رہے تھے، اس کے پیش نظر یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ دسمبر کے مہینے کے آتے آتے پاکستان کے پاس اتنے ڈالر نہیں ہوں گے کہ غیر ملکی قرضوں کی چار ارب ڈالر کی اقساط جمع کروائی جائیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان تکنیکی دیوالیہ کا شکار ہو جائے گا۔ اس صورتحال سے ملک کو بچانے کے لئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے عالمی مالیاتی ادارے یا آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کی تجویز پیش کی۔ جس کے بعد دبئی میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اکتوبر کے آخری ہفتے میں مذاکرات شروع ہوئے جسکے بعد چودہ نومبر کو پاکستان نے باضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کی درخواست کر دی جسے پچیس نومبر کو منظور کر لیا گیا اور تین روز بعد ساڑھے سات ارب ڈالرز کے قرض کی پہلی قسط جسکی مالیت ساڑھے تین ارب ڈالر تھی، پاکستان پہنچ گئی۔
غیر ملکی زر مبادلہ میں آنے والے اس اچانک بحران نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں بہت منفی تاثر پیدا کیا۔ اس کا اندازہ ملکوں اور اداروں کی اقتصادی کارکردگی پر نظر رکھنے والی عالمی ریٹنگز ایجنسیوں موڈیز اور سٹینڈرڈ اور پورز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ پر بار بار نظر ثانی کرنا تھا۔ اس ایک برس کے دوران پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ پر تقریباً نصف درجن بار نظر ثانی کی گئی اور ہر بار اس کا درجہ تنزلی کا شکار رہا۔ سال ختم ہوتے ہوتے ان میں سے ایک ریٹنگ ایجنسی نے آئی ایم ایف کی جانب سے قرض ملنے پر پاکستان کے حق میں بھی بیان جاری کیا لیکن مجموعی طور پر صورتحال اب بھی خاصی نازک ہے۔ اس صورتحال پر ایک معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ بار بار کی یہ معاشی تنزلی پاکستان میں مزید مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ سال دو ہزار آٹھ تو ختم ہو چلا ہے۔ لیکن اس دوران عالمی سطح پر معیشت میں جو تبدیلیاں آئیں انہوں نے برسوں سے مستند قرار دیے گئے معاشی مفروضوں اور نظام کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف تو دنیا ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ذریعے ملکوں کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لئے سرکرداں ہیں تو دوسری جانب ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چند ملکوں میں شروع ہونے والے معاشی بحران کے پوری دنیا تک پھیل جانے میں گلوبلائزیشن اور ملکوں کے قریبی معاشی تعلقات کا کتنا عمل دخل ہے۔ | اسی بارے میں سلیم رضا سٹیٹ بینک کے نئے گورنر29 December, 2008 | پاکستان معاہدے پر عمل، مہنگائی کم ترین03 December, 2008 | پاکستان عہدے کی معیاد ختم،گورنرمستعفی29 December, 2008 | پاکستان انکم سپورٹ پروگرام بینظیر کی برسی پر 25 December, 2008 | پاکستان پاکستان کی سمت درست نہیں: ایک سروے19 December, 2008 | پاکستان میڈیا ملازمین کی برطرفی کے خلاف احتجاج04 December, 2008 | پاکستان ’قرض گڈ گورننس کے لیے ضروری‘ 16 November, 2008 | پاکستان پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مزید کم14 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||