میریئٹ دوبارہ کھلنے کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس ستمبر سنہ دو ہزار آٹھ کو تباہ کن بم حملے کا نشانہ بننے والے اسلام آباد کے فائیو سٹار میریئٹ ہوٹل کو اٹھائیس دسمبر کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ہوٹل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مستقبل کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ہوٹل کے جنرل مینجر ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ تعمیر نو میں پر ایک ارب روپے سے زائد کے اخراجات ہوچکے ہیں جبکہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ خرچ بیرون ملک سے سکیورٹی کے آلات برآمد کرنے پر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کی بیرونی دیوار میں بم دھماکے کے اثر زائل کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہوٹل سے ملحقہ عمارتوں کے ساتھ بھی ایسی ہی دیوار بنائی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔ ذوالفقار احمد نے کہا کہ اگرچہ ہوٹل کی انشورنس تھی لیکن حملے کے بعدانشورنس کمپنی نے کہا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والی عمارت کا معاوضہ دینا اُن کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ذوالفقار احمد نے کہا کہ ہوٹل کی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے ہوٹل کے اکتیس افراد کے اہل خانہ کی کفالت کا ذمہ اُٹھایا ہوا ہے جبکہ حکومت نے تین ماہ کاعرصہ گذرنے کے بعد متاثرین کو معاوضہ دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق میریٹ میں ہونے والے دھماکے کے بعد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کو شدید دھچکا لگا تھا اور مختلف ملکوں بلخصوص امریکہ اور یورپی ملکوں نے اپنے شہریوں کو پاکستان کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔ میریٹ ہوٹل پر اس روز حملہ کیا گیا تھا جب صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا اور اُس موقع پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان فدائینِ اسلام نےذمہ داری قبول کرلی22 September, 2008 | پاکستان ’آگ بجھانے کا سلنڈر لینے گیا اور۔۔۔‘24 September, 2008 | پاکستان ’فدائین اسلام کا نام استعمال نہ کریں‘26 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: ملزمان کا عدالتی ریمانڈ04 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||