’سرکار فلاحی کام نہیں کر سکتی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کا کہنا ہے کہ ان کے فلاحی اور رفاعی ادارے کو سرکاری سرپرستی میں چلانا ممکن نہیں ہے جبکہ ایک دوسری این جی او کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناکامی کی صورت میں صدقے خیرات اور چندوں پر چلنے والی تنظیموں کا موقف مضبوط ترہوگا۔ کالعدم تنظیم جماعتہ الدعوۃ کی پاکستان کے تہتر شہروں میں ایمبولینس نیٹ ورک ہے،ایک سو چھپن میڈیکل سینٹر اور بارہ بلڈ بنک کام کر رہے ہیں جہاں ادارے کے بقول سالانہ بیس لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے۔ ایک سو ساٹھ سکول ہیں جو اٹھارہ ہزار نادار و یتیم بچوں کو وضائف دے رہے ہیں۔ کالعدم جماعتہ الدعوۃ کے ادارہ خدمت خلق کے سربراہ حافظ عبدالرؤف نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ متاثرین اور باجوڑ کے مہاجرین کی ماہانہ امداد سمیت مزید ایسے کئی امدادی منصوبے ہیں جن پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ وہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اس بیان پر تبصرہ کررہے تھے جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے فلاحی منصوبے خود حکومت چلائے گی۔ ادارہ خدمت خلق کے ناظم سے پوچھا گیا کہ حکومت ان کے فلاحی اور رفاعی ادرے چلانے کے لیے ان کے چندہ و خیرات کے نظام کو برقرار رکھ سکتی ہے؟ حافظ عبدالرؤف نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا ان کی جماعت سے اعتماد اور پیار کا رشتہ ہے اور ان کی ساکھ کی وجہ سے لوگ صدقہ خیرات اور چندہ ان کی جماعت کو دیتے ہیں جس سے یہ امدادی کارروائی جاری رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کوئی چندہ دینے کو تیار نہیں ہوگا اور نتیجہ لاکھوں انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے اداروں کے نقصان کی صورت میں نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے پہلے سے قائم سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کو چلا نہیں پا رہی۔ مریضوں کو ادویات نہیں ملتیں، سکولوں میں سٹاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے متعدد بنیادی اور ضلعی صحت مراکز ہیں جہاں حکومت طبی آلات تودرکنار سٹاف تک بھرتی نہیں کرپائی۔ کالعدم تنظیم جماعتہ الدعوۃ کا موقف ہے کہ صحت او تعلیم کی بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہی ہوتی ہے اور اس کی ناکامی کی وجہ سے ان کی جماعت جیسے فلاحی رفاعی ادارے وجود میں آتے ہیں۔ کالعدم جماعتہ الدعوۃ کے ادارہ خدمت خلق کے رہنما حافظ عبدالرؤف کہتے ہیں کہ ان کی جماعت اب تک ساڑھے آٹھ لاکھ افراد کی ہیپاٹائٹس بی کی مفت ویکسینشن کرچکی ہے کیونکہ ان کےبقول ہیپاٹائٹس بی اور سی حکومت کی ترجیحات میں بہت نیچے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تھرپارکر کے صحراؤں میں پانی کے کنویں کھود رہی ہے جبکہ حکومت نے اس علاقے میں آج تک ایک بھی کنواں نہیں کھودا۔ حافظ عبدالرؤف نے کہا کہ ان کے ادارے نے اس عید قربان پر ساڑھے چودہ ہزار جانوروں کا گوشت غریبوں تک پہنچایا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیاحکومت ان کاموں کو جاری رکھ سکے گی؟ ایک غیر سرکاری ادارےلیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹرخالد محمود کہتے ہیں کہ حکومت کو نہ صرف کالعدم جماعتہ الدعوۃ بلکہ تمام مذہبی اور خیراتی تنظیموں کے مدرسے ہپستال سکول اور دیگر اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس کے لیے سیاسی عزم اور مناسب بجٹ کی ضروت ہے جو ان کے بقول موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے۔ خالد محمود نے کہا کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اگر حکومت نے مناسب فنڈز کے بغیر کالعدم جماعتہ الدعوۃ کے ادارے اپنی تحویل میں لیے تو ہوسکتا ہے کہ وہ چند ایک کو تو کامیابی سی چلالے لیکن بعض میں وہ ناکام رہے گی اور نتیجے کے طور پر کالعدم جماعتہ الدعوۃ اور اس جیسی تنظیموں کا یہ موقف مزید مضبوط ہوکر ابھرے گا کہ اس معاشرے میں ان کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں ’پابندی غریبوں پر سراسر ظلم ہے‘13 December, 2008 | پاکستان حافظ سعید با ضابطہ نظر بند13 December, 2008 | پاکستان لاہور میں جماعۃ الدعوۃ کا احتجاج14 December, 2008 | پاکستان فلاحی ادارے حکومت چلائے گی15 December, 2008 | پاکستان اپنے فیصلے خود کرنے ہیں تو ۔۔۔16 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||