BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2008, 17:11 GMT 22:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جہادی مواد برآمد، کتاب فروش گرفتار

اس کتابچے میں فوج کے خلاف مواد شامل ہے
پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس دکاندار کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے جس پر فوج کے خلاف نفرت پھیلانے اور جہادی کتابچے تقسیم کرنے کا الزام ہے۔

عدالت نے اسی دکاندار کے ایک بھائی کی گرفتاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے ہیں۔

یہ دکاندار گذشتہ مہینے گجرات کےنواحی قصبے لالہ موسیٰ سے گرفتار ہوا تھا۔پیر کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اس کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔پولیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر نذر محمدگوندل نے ضمانت کی مخالفت کی اور بتایا کہ ملزم محمد رضوان کتب کی دکان کا مالک ہے۔اس کے قبضے سے ایک ایسا کتابچہ برآمد ہوا ہے جس میں عسکری تربیت کی ترغیب دی گئی ہے۔تفتیشی کے بقول یہ ایسے لٹریچر پر مبنی ہے جو فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

استغاثہ نے اس کتابچے کی نقل عدالت میں پیش کی جو مبینہ طور پر ملزم سے برآمد ہوئی۔سولہ صفحات پر مشتمل ایک کتابچے کے سرورق پر جلی حروف غازی عبدالرشید کا نام لکھا ہے اور عنوان ہے ’شہدائے لال مسجد کو خراج تحسین۔ٰ

سر ورق پر ہی ایک شعر لکھا ہے۔
مجھ کو کیوں خوں میں نہلایا پوچھتی ہے لال مسجد
بول تیرے ہاتھ میں کیا آیا پوچھتی ہے لال مسجد

سب انسکپٹر نے عدالت کو بتایا کہ سی آئی ڈی پنجاب نے ایک مراسلہ صوبے بھر میں بھجوایا ہے جس میں مقامی پولیس کو اطلاع دی گئی ہے کہ مختلف اضلاع میں ایک ایسا کتابچہ تقسیم کیا جارہا ہے جس میں باغیانہ نظمیں ہیں اور جہاد اور عسکری تربیت کی ترغیب دی جارہی ہے۔سب انسپکٹر کے بقول مراسلے کے ذریعے پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایس کتابچے کی تقسیم کو روکے اورجہاں بھی یہ ملے وہاں کارروائی کی جائے۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ اس کتابچے سے عام پاکستانیوں میں فوج کے خلاف نفرت پھیل سکتی ہے اس لیے ملزم کو گرفتار کیاگیا ہے۔انسداد دہشت گردی کے جج نے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی اور کہا کہ ملزم سےبظاہر فوج کے خلاف باغیانہ لٹریچر برآمد ہوا ہے اس کے لیے ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ پولیس نے جب ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا تواس کا بھائی محمد عباس اس کتابچے کی تقسیم کے سلسلے میں دوسرے شہروں کے دورے پر جاچکا تھا۔پولیس کے بقول محمد عباس کالعدم تنظیم جیش محمد کا تحصیل کھاریاں کا صدر ہے اور جہاد کے لیے عسکری تربیت حاصل کرچکا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے محمد عباس کی گرفتاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اسے بیس دسمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد