BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 December, 2008, 05:34 GMT 10:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہلے والی لسٹ میں کون کون مطلوب تھے


بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے بیس مطلوب افراد کی فہرست حکومت پاکستان کے حوالے کی ہے، تاہم پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ بھارت نے تحریری طور پر تین افراد کی فہرست حکومت پاکستان کے حوالے کی ہے۔ ان میں مولانا مسعود اظہر، داؤؤد ابراہیم اور ٹائیگر ابراہیم میمن ہیں۔

لیکن اس سے قبل منگل کے روز پاکستان کے دفتر خارجہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نئی دہلی میں پاکستانی سفیر شاہد ملک کے حوالے کی گئی بھارتی فہرست میں انہی بیس افراد کے نام شامل ہیں جنکی حوالگی کا تقاضا بھارت کئی برسوں سے کر رہا ہے۔اس فہرست میں تین طرح کے لوگ شامل ہیں۔

پہلے نمبر پر انڈر ورلڈ کے ارکان ہیں، دوسرا گروپ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی کی تحریک میں شامل رہنے والی مختلف جہادی تنظیموں کے افراد کا ہے جبکہ تیسرے گروپ میں سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک کے لوگوں کے نام شامل ہیں۔

اس سے قبل بھارت نے آخری بار سن دو ہزار دو میں جن بیس مطلوب افراد کی فہرست پاکستان کے حوالے کی تھی ان میں مندرجہ ذیل نام شامل تھے۔

مولانا مسعود اظہر

مولانا مسعود اظہر کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس تنظیم پر 13 دسمبر سن دو ہزار ایک میں ہندوستان کی پرلیمان پر حملے کا الزام ہے۔اس کے علاوہ اس تنظیم کو یکم اکتوبر سن دو ہزار ایک میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی پر ہونے والے حملہ کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

مولانا مسعود اظہر

اس حملے میں اڑتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔لیکن تنظیم ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ مولانا مسعود اظہر پاکستان کے صوبہ پنچاب کے علاقے بہاولپور میں رہتے ہیں۔

مولانا مسعود اظہر ان تین قیدیوں میں سے ایک تھے جنہیں دسمبر سن ننانوے میں ایک اغواشدہ بھارتی طیارے کے مسافروں کے بدلے رہا کیا گیا تھا۔ انڈین ائیر لائنز کے طیارے کو کٹھمنڈوں سے ہائی جیک کرکے افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اتارا گیا تھا۔ اپنی رہائی کے بعد مولانا مسعود اظہر نے جیش محمد نامی تنظیم بنائی اور ان میں بیشتر وہ لوگ تھے جو عسکری تنظیم حرکت المجاہدین سے الگ ہوئے تھے۔ بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا اور پھر پاکستان کی پرویز مشرف کی حکومت نے بھی اس کو دوسری تنظیموں کے ساتھ کالعدم قرار دیا۔ بعد ازاں مولانا مسعود اظہر نے خدام الااسلام کے نام سے نئی تنظیم بنائی لیکن پرویز مشرف کی حکومت نے اس پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

حکومت پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ اگر بھارت مولانا مسعود اظہر کے بارے میں ثبوت فراہم کرے گا تو پھر کارروائی کی جائے گی۔ اس بار بھی حکومت پاکستان نے اپنا یہی موقف دھرایا ہے۔

حافظ محمد سعید

بھارت کو مطلوب حافظ محمد سعید کلعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سابق سربراہ ہیں۔ بھارت نے دہلی کی پارلیمان پر حملے کا ذمہ دار لشکر طیبہ کو بھی ٹھہرایا تھا۔ لیکن لشکر طیبہ اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں حملہ آور بھی شامل تھے۔

لشکر طیبہ پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج پر حملےکرنے کا بھی الزام ہے۔ بھارتی حکام نے ممبئی کے حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی لشکر طیبہ پر ڈالی لیکن لشکر طیبہ نے اس کی تردید کی۔

حافظ محمد سعید

سن دو ہزار ایک میں دہلی کی پارلیمان پر حملے کے بعد امریکہ نے اس تنظیم پر پابندی عائد کی تھی اور اس کے فوراً بعد پرویز مشرف کی حکومت نے بھی اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا۔

اسی دوران حافظ سعید لشکر طیبہ سے الگ ہوگئے اور انہوں نے جماعت الدعوۃ کے نام سے نئی تنظیم قائم کی اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ ان کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ان کی جماعت جماعت الدعوۃ پاکستان میں مذہبی اور فلاحی کاموں میں سرگرم ہے۔

اپریل سن دو ہزار چھ میں امریکہ نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم خدمت خلق پر بھی پابندی عائد کرکے تمام اثاثے منجمد کر دیے تھے اور حکومت پاکستان نے بھی اس تنظیم کو کڑی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔

پاکستانی حکام کا حافظ سعید کے بارے میں ماضی میں یہی موقف رہا ہے کہ اگر بھارت شواہد فراہم کرے گا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سید صلاح الدین

سید صلاح الدین بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برِسرپیکار لگ بھگ ایک درجن عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سب سے بڑی عسکری تنظیم حزب المجاالدین کے بھی سربراہ ہیں۔

حزب المجاہدین بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ صلاح الدین کا، جن کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے بتایا جاتا ہے، ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ حزب المجاہدین ایک کشمیری تحریک ہے اور وہ کشمیر کی آزادی اور بھارتی قبضے سے نجات کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

صلاح الدین

ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کی سرگرمیاں صرف بھارت کے زیر انتظام کشمیر تک محدود ہیں اور یہ کہ ان کی تنظیم صرف بھارتی فوج کو اپنا نشانہ بناتی ہے اور اس نے کبھی شہریوں کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا۔

انہوں کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کا کسی دہشت گرد کارروائی سے نہ کبھی تعلق رہا ہے اور نہ کبھی رہے گا۔

ابراہیم طاہر

بھارت کا کہنا ہے کہ ابراہیم طاہر مولانا مسعود اظہر کے ساتھی ہیں اور ان پر بھارت کی طرف سے یہ الزام ہے کہ ان اغواکاروں میں سے ہیں جنہوں نے بھارتی حکام کے مطابق سن انیس سو ننانونے میں بھارتی ائیر لائینز کے طیارے کو کھٹمنڈوں سے اغوا کیا تھا اور بعد میں قندھار میں اتارا تھا۔

ابراہیم طاہر بھارت کو اغوا، قتل اور ہائی جیکنگ کے الزامات میں مطلوب ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پنچاب کے شہر بہاولپور سے ہیں لیکن پاکستانی حکام ان کی پاکستان میں موجودگی کی ہمیشہ تردید کرتی رہے ہیں۔

ظہور ابراہیم مستری

بھارت کا کہنا ہے کہ ظہور ابراہیم مستری حرکت الانصار کے رکن ہیں۔حرکت الانصار حرکت المجاہدین میں تبدیل ہوگئی تھی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ سن اننانوے میں بھارتی طیارے کو اغوا کرنے والوں میں شامل تھے۔ ان پر بھی ہائی جیکنگ، قتل اور اغوا کے الزامات ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ کراچی میں رہتے ہیں لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

شاہد اختر سید، اظہر یوسف

ان دونوں پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ سن ننانوے میں بھارتی طیارے کو اغوا کرنے والوں میں شامل تھے اور یہ کہ ان پر ہائی جیکنگ، قتل اور اغوا کے الزامات ہیں۔ بھارت کا اصرار یہ ہے کہ یہ دونوں کراچی میں رہتے ہیں لیکن پاکستان ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

عبدالکریم

عبدالکریم پر الزام ہے کہ یہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کی مدد کرتے ہیں اور یہ کہ وہ سن96-97 میں دہلی اور شمالی بھارت میں تیس سے زیادہ بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ عبدالکریم لاہور میں رہتے ہیں لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

داؤد ابراہیم

یہ بھارت کے زیرِزمین منظم جرائم پیشہ دنیاکے ڈان ہیں۔ بھارت کی طرف سے ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے سن انیس سو ترانوے میں ممبئی میں ہونے والے تیرہ بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس کے لیے مالی امداد بھی فراہم کی تھی۔ ان حملوں میں دو سو ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

داؤد ابراہیم

داؤد ابراہیم اسلحہ و منشیات کی سمگلنگ، جعل سازی، جرائم پیشہ افراد کی مالی اعانت کرنے کے الزامات میں بھی بھارت کو مطلوب ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ کراچی میں ہیں لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں نہیں ہیں۔

چھوٹا شکیل

ان کو داؤد ابراہیم کا اہم ساتھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان پر قتل، اغوا، تاجروں اور فلمی ستاروں کو بلیک میل کرنے اور جبری طور پر پیسے حاصل کرنے کے الزامات ہیں۔ بھارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ چھوٹا شکیل پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہم جاسوس ہیں۔ ان کے بارے میں بھی بھارت یہ کہتا رہا تھا کہ وہ کراچی میں رہتے ہیں لیکن پاکستان نے بارہا اس کی تردید کی ہے۔

ٹائیگر ابراہیم میمن

ٹائیگر ابراہیم بھی داؤؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی ہیں۔ان پر بھارت کی طرف سے یہ الزام ہے کہ انھوں نے سن ترانونے میں ممبئی حملے کروائے تھے۔ اس کے علاوہ وہ بھارت کو قتل، اغوا، دہشت گردی اور اسلحہ اور بارود کی سمگلنگ کے علاوہ رقم کی جبری وصولی کے الزامات میں مطلوب ہے۔

ٹائیگر ابراہیم میمن

بھارت کا خیال ہے کہ ٹائیگر ابراہیم کراچی میں رہتے ہیں اور اکثر و بیشتر دبئی کا سفر کرتے ہیں لیکن پاکستان ان کی کراچی میں موجودگی سے انکار کرتا رہا ہے۔ پاکستان کے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک نے ایک بار پھر کہا کہ ٹائیگر ابراہیم پاکستان میں نہیں ہیں۔

ایوب میمن

ان پر بھی سن ترانونے میں ممبئی بم حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی ابراہیم میمن کو بم حملے کرنے میں مدد کی تھی۔ وہ بھارت کو دہشت گردی اور سمگلنگ کے الزامات میں مطلوب ہیں۔ بھارت کہتا ہے کہ وہ بھی کراچی میں رہتے ہیں لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

عبدالرزاق

ان پر بھی الزام ہے کہ وہ انیس سو ترانوے کے ممبئی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ اسلحہ کی سمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات میں ہندوستان کو مطلوب ہیں۔ بھارت کا اصرار رہا ہے کہ وہ کراچی میں ہیں لیکن پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

اسحاق عطا حسین، ساغر شبیر علی شیخ

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ داؤد ابراہیم کے ساتھی ہیں اور بھارت کا ان پر یہ الزام ہے وہ بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی کو ہلاک کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ حسین کراچی میں رہتے ہیں لیکن پاکستان انکار کرتا ہے۔

ودھا وان سنگھ بابر

ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ سکھ عسکری تنظیم ببر خالصہ انٹرنیشنل کے سربراہ ہیں۔ ہندوستان کا الزام ہے کہ وہ سن 80 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں علیحدگی کی تحریک میں ملوث رہے ہیں اور ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ بانت سنگھ کو ہلاک کیا۔ بھارت کا اصرار رہا ہے کہ وہ لاہور میں ہیں جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔

رنجیت سنگھ نیتا

ان کے بارے میں ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ خالصتان زندہ باد فورس کے رہنما ہیں اور وہ بھارت کو قتل، بم دھماکوں اور اسلحہ کی سمگلنگ کے الزامات میں مطلوب ہیں۔بھارت یہ کہتا رہا ہے کہ وہ لاہور میں مقیم ہیں لیکن پاکستان اس سے انکاری ہے۔

پرم جیت سنگھ پنجوار

پنجوار خالصتان کمانڈو فورس کے سربراہ ہیں۔ ان پر بھارت کی طرف سے یہ الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی پنجاب میں علیحدگی پسند تحریک کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان پر قتل، بغاوت، سازش اور اسلحہ سمگل کرنے کے الزامات ہیں ۔ بھارت کا الزام ہے کہ وہ لاہور میں ہیں لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

لکھبیر سنگھ روڈی

بھارت کا کہنا ہے کہ روڈی انٹرنیشل سکھ یوتھ فیڈریشن کے سربراہ ہیں اور ان پر یہ الزام رہا کہ انہوں نے دہلی میں بھارتی رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی سازش رچائی تھی۔ اس کے علاوہ وہ بھارت کو اسلحہ کی سمگلنگ اور بھارتی پنچاب میں مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں بھی مطلوب ہیں۔بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں ہیں جبکہ پاکستان انکار کرتا ہے۔

گجندر سنگھ

گجندر سنگھ

بھارتی حکام کے مطابق گجندر سنگھ سکھوں کی عسکری تنظیم دل خالصہ کے رہنما ہیں۔ ان پر بھارت کی طرف سے یہ الزام ہے کہ انہوں نے سن 1981 میں سرینگر سے دہلی جانے والے طیارے کو اغوا کیا تھا۔ پاکستان کی اس وقت کی حکومت نے ان کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب انہوں نے طیارہ لاہور میں اتارا تھا۔ ان پر لاہور میں مقدمہ چلایا گیا اور بھارت کا کہنا ہے جیل سے رہائی کے بعد سے وہ لاہور میں ہی رہتے ہیں۔ پاکستان انکار کرتا رہا ہے۔
داؤد ابراہیموہی پرانی باتیں
بھارتی لسٹ بھی وہی، پاکستانی موقف بھی وہی
قبرستان بھی تنگ
دہشتگردوں کی قبر کی جگہ نہیں: مسلم کونسل
وار زون ناری من۔۔
ناری من ہاؤس: رہائشیوں پر کیاگزی
سنیل یادوحملوں کی دہشت
’موت کو دیکھا پھراس کے منہ سے باہرنکلے‘
 وزیر داخلہ آر آر پاٹل دھماکے، ماہی گیر
’ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کو آگاہی تھی‘
حملہ آورصرف شہرت کے لیے؟
کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟
دھماکوں کے بعد
خراج عقیدت، امن کی امیدیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد