کانفرنس: شرکت نہ کرنے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن نے اعلان کیا ہے کہ سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر علی احمد کرد کو قومی سلامتی کانفرنس میں مدعو نہ کرنے پر وہ اس کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ نیور کانفرنس میں اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کو وزیر اعظم ہاؤس سے قومی سلامتی کانفرنس میں شرکت کے مدعو کیا گیا تھا۔ان کے بقول وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری نے انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جس میں یہ ابہام تھا کہ انہیں ذاتی حیثیت سے مدعو کیا گیا یا پھر سپریم کورٹ کے عہدیدار ہونے کی وجہ سے دعوت دی گئی ہے۔ اعتزاز احسن نے نے بتایا کہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ اب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نہیں ہیں اس لیے سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد کو اکیلے یا پھر ان کے ساتھ کانفرنس کے لیے مدعو کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیاگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں عدم شرکت کے باوجود وکلاء برادری پوری قوم کے ساتھ ہے اور بھارت کی طرف سے کسی جارحیت کے خلاف قوم اور افواج پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں ہر صورت میں جنگ سے گریز کریں اورمسائل اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پرامن طریقہ اختیار کریں۔ان کے بقول جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ جنگ دونوں ملک کئی دہائیوں پیچھے چلے جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ گندم، چاول اور تیل کے ذخائر میں اضافہ کرے جبکہ شہریوں کو شہری دفاع کی ترتیب دی جائے۔ ایک سوال پر اعتزاز احسن نے کہا کہ کہ وکلاء کا ہفتہ وار احتجاج جاری رہے گا کیونکہ اس احتجاج کا فیصلہ وکلاء قومی رابطہ کونسل نے کیا ہے اور یہ کونسل ہی اس فیصلے کو تبدیل کرسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وکلاء کی قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس عید کے بعد ہوگا جس میں آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ انہوں نے کراچی کے حالات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی میں ہونے والے واقعات کی روک تھام کےلیے انتظامیہ کو فوری اور سخت اقدامات کرے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عبدالرحمید ڈوگر کی بیٹی کو امتحانی پرچوں میں اضافی نمبر دینے کے معاملے پر کہ سپریم کورٹ بار نے اپنی قرار داد کے ذریعے جسٹس عبدالرلحمید ڈوگر سے مستعفیْ ہونے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر بار ایسوسی ایشنز بھی اس معاملے پر قرار دادریں منظور کر رہی ہیں۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوانے کے سوال پر ان کا کہنا ہے کہ وکلا سپریم جوڈیشل کونسل کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ اس کونسل کے سربراہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر ہیں۔ | اسی بارے میں ’ٹھوس شواہد پر سخت کارروائی‘29 November, 2008 | پاکستان ’پکڑے گئے جہاز پاکستانی نہیں‘28 November, 2008 | پاکستان ممبئی: ISI نمائندہ بھارت جائے گا28 November, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی سربراہ انڈیا جائیں گے28 November, 2008 | پاکستان ممبئی حملے، پاکستان کی مذمت27 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||