’منافع نہ بڑھا تو ہڑتال کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر ان کو طے شدہ شرح سے منافع کی ادائیگی کی جائے بصورتِ دیگر ملک گیر ہڑتال بھی کی جاسکتی ہے۔ ابتدائی طور پر ملک کے تمام پٹرول پمپس، صارفین کو کریڈٹ کارڈ کی سہولت نہیں دیں گے کیونکہ اس طرح انہیں بینک چارجز دینا پڑتے ہیں جس سے، ان کے دعوے کے مطابق، انہیں منافع کے بجائے نقصان ہورہا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسمیع خان نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ چار ماہ میں پٹرولیم ڈیلرز کا منافع دو روپے دس پیسے سے کم کرکے پچھترپیسے فی لیٹر کردیا ہے اور اس قلیل منافع سے پٹرول پمپس اپنا کاروبار نہیں چلا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی ایک لیٹر قیمت کا پانچ فیصد منافع طے ہوا تھا تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے منافع کم کردیا تھا جس پر پٹرولیم ڈیلرز بھی خاموش رہے تھے کیونکہ ایک بحرانی کیفیت تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت ہی کم سطح تک آچکی ہیں لہذٰا حکومت اب پٹرولیم ڈیلرز کو طے شدہ پانچ فیصد منافع ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے تک پٹرولیم ڈیلرز کو چار فیصد شرح سے منافع دیا جارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو روز بعد ایسوسی ایشن کے عہدیدار، سیکریٹری پٹرولیم کے ساتھ ملاقات کریں گے جس میں باقاعدہ ان مطالبات کو ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تو ایسوسی ایشن کا جنرل باڈی اجلاس بلایا جائے گا جس میں ملک بھر سے ارکان شرکت کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی ایسوسی ایشن کے اراکین کی جانب سے دباؤ ہے کہ پٹرول پمپوں کی ملک گیر ہڑتال کی جائے تاہم اس کا حتمی فیصلہ سیکریٹری پٹرولیم سے مذاکرات کے بعد ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ ملک میں تیل کے ذخائر آٹھ سے دس دن کے رہ گئے ہیں کیونکہ بینکوں کی جانب سے لیٹر آف کریڈٹ کھلنے میں دیر ہورہی ہے جس سے بیرونی ممالک کی تیل کی کمپنیوں کو ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں تیل فوری طور پر درآمد نہ کیا گیا تو اگلے چند ہفتوں میں پٹرول پمپوں پر تیل کی فراہمی معطل ہونے کا خدشہ ہے۔ عبدالسمیع خان نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے سی این جی کی قیمتیں بھی بڑھادی تھیں تاہم پٹرول پر دس روپے فی لیٹر قیمت میں کمی کے اعلان کے بعد اب گیس کی قیمتوں میں بھی کمی کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی کی صنعت میں لوگوں کے اربوں روپے لگے ہوئے ہیں۔ اور اگر پٹرول کے مقابلے میں سی این جی کی قیمت میں زیادہ فرق نہ ہوا تو سی این جی کی صنعت سے وابستہ افراد کو کاروباری نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ جبکہ دوسری جانب اگر گیس کی قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو اس سے سی این جی کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ | اسی بارے میں سی این جی کے مالکان پریشان17 January, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں اضافہ01 March, 2008 | پاکستان پیٹرول کی قیمت میں بھاری اضافہ 20 July, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتیں اور حکومتی منافع22 July, 2008 | پاکستان ’ڈیزل پر سبسڈی دینا مشکل ہے‘22 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||