خیرپور:جعلی پولیس مقابلہ، 3 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سکھر بشیر میمن نے کہا ہے کہ خیرپور پولیس کے متعدد افسران کے خلاف اُن تین طلبہ کے قتل کامقدمہ درج کیا گیا ہے جنہیں اتوار کے دن مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔ خیرپور ضلع کے تھانہ گلو سیال میں دو مختلف تھانوں کے تھانیدار انسپکٹرز غلام عباس شر، انسپکٹر غلام مصطفٰی سیال اور سپیشل ٹیم کے سربراہ سب انسپکٹر راحب ملاح، سب انسپکٹر گل محمد اور ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت آٹھ نا معلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مگر تاحال کسی پولیس اہلکار کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیے گئے تین طلبہ میں گیارہویں جماعت کے چودہ سالہ الہڈنو جاگیرانی، بارہویں جماعت کے سترہ سالہ ضمیر احمد جاگیرانی اور میٹرک کے طالب علم تیرہ سالہ گل بیگ جاگیرانی شامل ہیں۔ مقتول طلبہ کے ورثاء کا کہنا ہے کہ خیرپور پولیس کے مختلف تھانوں کے درجنوں پولیس اہلکاروں نے اتوار کے دن ان کے گاؤں مٹھل جاگیرانی کا گھیراؤ کیا اور بلا وجہ ان کےگھروں پر فائرنگ کردی جس کےنتیجے میں تین کمسن طلبہ ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب خیرپور پولیس کے سربراہ پیر محمد شاہ نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایک بدنام ڈاکو کی گاؤں میں موجودگی کی اطلاع پر علاقے کا محاصرہ کیا جس میں دو تین لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ گاؤں مٹھل جاگیرانی کے سینکڑوں افراد نے تین طلبہ کی لاشوں سمیت قریبی قومی شاہراہ پر دھرنا دیا اور پولیس اہلکاروں کے خلاف نعرے بازی کی جس کے نتیجے میں قومی شاہراہ کا ایک حصہ چند گھنٹے بند رہا۔ گاؤں مٹھل جاگیرانی کے مکینوں کے دھرنے کی سربراہی کرنے والے نور محمد، الہوسایو جاگیرانی اور دیگر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں نہ اطلاع دی اور نہ صفائی کا موقع دیا اور گاؤں کے گھروں پر فائرنگ کا سلسہ شروع کردیا۔ گاؤں کے مکینوں نے الزام عائد کیا کہ فائرنگ اور ہلاکتوں کے بعد پولیس نے گھروں کی تلاشی لی مگر پولیس کو کوئی ڈاکو نہیں مل سکا۔ واضح رہے کہ سندھ میں پولیس اہلکاروں کی زیادتیوں کے خلاف ہر دوسرے دن کئی شہروں میں احتجاج ہوتے رہتے ہیں۔ پولیس نے کچھ عرصہ قبل پنو عاقل میں کھاد کی تقسیم کے دوران کسانوں کے ایک ہجوم پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک کسان ہلاک ہوگیا تھا۔ کسان کے قتل کا مقدمہ پنوعاقل کے اس وقت تھانہ انچارج کے خلاف درج کیا گیا تھا مگر ایک ماہ بعد نجی فیصلے میں پولیس اہلکاروں نے معافی مانگی، جرمانہ ادا کیا اور قتل کامقدمہ ختم کروا دیا تھا۔ سندھ میں پولیس اہلکاروں کے خلاف جعلی پولیس مقابلوں کے مقدمات عدالتوں میں شروع ہونے سے قبل ختم ہوجاتے ہیں اور وڈیروں کی خانگی عدالتوں میں وہ جرمانہ ادا کرنے اور معافیاں مانگنے کے بعد اپنی ڈیوٹیوں پر واپس پہنچ جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں تمام راستے جنوبی وزیرستان کی طرف27 September, 2008 | پاکستان محاصرے کے بعد’خودکش‘ دھماکہ26 September, 2008 | پاکستان چارسدہ: ایک اور آئی بی اہلکار کاقتل11 April, 2008 | پاکستان ’گوجرانوالہ پولیس مقابلہ جعلی تھا‘28 April, 2007 | پاکستان ملزم نے جج کو چپل دے مارا11 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||