محاصرے کے بعد’خودکش‘ دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے پولیس مقابلے کے بعد ایک دھماکے میں تین مبینہ شدت پسند اور ایک مغوی ہلاک ہوگیا ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ محمد وسیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا۔ سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا کہ ہلاک ہونے والے دو مبینہ شدت پسندوں کو قریب سے گولیاں لگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ تحقیق ہونا باقی ہے کہ وہ پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے یا انہوں نے خود ایک دوسرے کو گولیاں ماریں۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تین لوگوں کو مارنے کے بعد تیسرے شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ایسی اطلاع ملی تھی کہ ایک دہشتگرد تنظیم کے لوگ کراچی میں موجود ہیں اور وہ کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ اس اطلاع کی تصدیق کے بعد ہم نے دو جگہوں پر چھاپے مارے اور ایک جگہ سے ہم نے ان کا ایک اہم سرغنہ گرفتار کر لیا‘۔ وسیم احمد کے مطابق گرفتار ہونے والے اس مشتبہ شدت پسند کی نشاندہی پر بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں واقع موچکو قبرستان کے قریب ایک گھر کا محاصرہ کیا گیا۔ ’ایک گھنٹے کے محاصرہ کے دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کے بعد مکان میں چھپے افراد نے دستی بم بھی پھینکے اور بعدازاں اسلحہ ختم ہونے پر تین خودکش بمباروں نے خود کو بم سے اڑا دیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ عام شہریوں کے تحفظ کے لیے آپریشن سے قبل علاقے میں رہائش پذیر افراد سے علاقہ خالی کرنے کو بھی کہا گیا کیونکہ پولیس کو معلوم تھا کہ ’مشتبہ افراد کے پاس بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار ہیں جنہیں وہ استعمال کر سکتے ہیں‘۔ جائے وقوع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق دھماکے میں مبینہ دہشتگردوں کی پناہ گاہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس کے ملبے سے تین مبینہ دہشتگردوں اور ایک ایسے شخص کی لاش ملی ہے جسے زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔ نامہ نگار احمد رضا کے مطابق پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی شناخت کپڑے کے تاجر شوکت آفریدی کے طور پر ہوئی ہے جنہیں اس سال آٹھ مئی کو کراچی سے اغواء کیا گیا اور ان کی رہائی کے لیے پانچ کروڑ روپے تاوان مانگا گیا تھا۔ حکام نے اس مشتبہ شدت پسند کا نام ظاہر نہیں کیا ہے جس کی نشاندہی پر یہ کارروائی ہوئی تاہم وسیم احمد کے مطابق گرفتار اور ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے جبکہ گرفتار ہونے والا شخص اس سے پہلے بھی نشتر پارک میں عید میلاد النبی کے جلسے اور علامہ حسن ترابی پر ہونے والے خودکش حملے سمیت دہشتگردی کے مختلف مقدمات میں مطلوب تھا۔ پولیس نے منہدم ہونے والے مکان سے سات دستی بم، سات پستول اور ایک دس کلو وزنی بم بھی برآمد کیا ہے اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس بم میں سی فور دھماکہ خیز مواد اور کِیلیں استعمال کی گئی تھیں۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان ممکنہ طور پر شہر میں دہشت گردی کا ارادہ رکھتے تھے تاہم پولیس کی بروقت کارروائی سے یہ سازش ناکام بنا دی گئی اور شہر محفوظ رہا۔ جس گھر میں ان مبینہ شدت پسندوں کا ٹھکانہ تھا وہ بلدیہ ٹاون کے علاقے نیوسعید آباد کے سیکٹر گیارے اے میں واقع ہے۔ اس گھر کی چار دیواری کے اند ایک کمرہ اور غسل اور واش روم بنے ہوئے تھے۔ دھماکے بعد بکھرے ہوئے سامان میں پرانے اخبارات، ایک گیس کا چولھا، دیگچی اور کچھ برتن موجود تھے۔ آنگن میں زمین میں ڈرلنگ کے لیئے استعمال ہونے والی مشنری موجود تھی۔ علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ یہ گودام کے طور پر استعمال ہوتا تھا جس میں دو افراد رہتے تھے۔ ان کے مطابق صبح سات بجے کےقریب انہوں نے دیکھا کے گیٹ کھلا ہوا تھا گیٹ کے پیچھے اور گھر کے باہر پڑے ہوئے لوہے کے بڑے پائپوں کے پیچھے پولیس اہلکار چھپے ہوئے تھے اور ایک بکتر بند گاڑی گلی میں موجود تھی۔ عینی شاہدوں نے بتایا کہ دس بجے کے قریب زوردار دھماکہ ہوا اور انہوں نے لوہے کی چھت کو ہوا میں اڑتے دیکھا۔ ایک دوسرے رہائشی اول خان کے مطابق اس جگہ میں رہنے والے چہروں سے پٹھان لگتے تھے جن میں سے ایک موٹر سائیکل پر اور دوسرا سائیکل پر یہاں آتا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ان کے گھر کی کھڑکیوں کے بھی شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ | اسی بارے میں خودکش حملے کی دھمکی پر ہائی الرٹ25 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، درجن بھرگرفتاریاں25 September, 2008 | پاکستان ’اسلام آباد: مزید حملوں کا خطرہ ہے‘24 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ24 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||