’سفارشات پر ایک ماہ میں عمل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی سلامتی کے متعلق پارلیمان کی سترہ رکنی خصوصی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جن معاملات پر کمیٹی حکومت کو سفارشات پیش کرے گی حکومت ان پر ایک ماہ کے اندر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔ پیر کو کمیٹی کا پہلا اجلاس آٹھ گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بتایا کہ کمیٹی کی کارروائی خفیہ ہوگی۔ تاہم ان کے مطابق ایسے معاملات جن کے بارے میں عوام کو آگہی دینا ضروری ہوگا وہ بتائے جائیں گے۔ وزیر نے بتایا کہ پارلیمان کی اس خصوصی کمیٹی نے سینیٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی کو متفقہ طور پر اپنا چیئرمین منتخب کیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس بیس نومبر کو دوبارہ ہوگا۔ وزیر کے مطابق پارلیمان کی اس خصوصی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ کسی بھی وزیر یا افسر کو طلب کرسکے اور کسی معاملے پر ان سے وضاحت طلب کر سکے۔ شیری رحمٰن نے بتایا کہ پارلیمان کی یہ خصوصی کمیٹی مختلف معاملات کی چھان بین اور تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹیاں بھی بناسکے گی۔ ان کے مطابق کوشش ہوگی کہ تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے جائیں اور اگر کسی معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا تو فیصلہ اکثریت رائے سے کیا جائے گا۔ ایک سوال پر وزیر اطلاعات نے بتایا کہ یہ کمیٹی قومی سلامتی کے بارے میں حکومت کوگائیڈ لائن فراہم کرے گی اور کمیٹی کے اراکین کسی بھی متاثرہ علاقے میں جا سکیں گے۔ ان کے مطابق کمیٹی خود مختار ہے اور کارروائی چلانے کے لیے اپنے قواعد و ضوابط بنائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کے لیے ایک تہائی اراکین کا موجود ہونا لازم ہوگا بصورت دیگر اجلاس ملتوی کیا جائے گا۔ وزیر کے مطابق کمیٹی کسی بھی شہر میں اپنا اجلاس منعقد کرسکے گی اور کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ منعقد ہوگا اور کمیٹی اپنی کارروائی سے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو وقت بوقت آگاہ کرتی رہے گی۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی اور باالخصوص دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں متفقہ پالیسی بنانے کے متعلق گزشتہ ماہ پارلیمان کے بند کمرے میں کئی روز بحث کے بعد ایک متفقہ قرارداد منظور کرنے کے بعد یہ کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی میں پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ’وزارت خارجہ کو نظر انداز کیا گیا‘ 13 November, 2008 | پاکستان امریکی حملے، ’ڈٹ جاؤ یا بیان بند کرو‘12 November, 2008 | پاکستان سترہ رکنی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل10 November, 2008 | پاکستان سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب01 November, 2008 | پاکستان سات کمیٹیاں، پی ایم ایل ن کے سپرد23 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||