BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2008, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سفارشات پر ایک ماہ میں عمل‘

رضا ربانی
کمیٹی نے سینیٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی کو متفقہ طور پر اپنا چیئرمین منتخب کیا ہے
قومی سلامتی کے متعلق پارلیمان کی سترہ رکنی خصوصی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جن معاملات پر کمیٹی حکومت کو سفارشات پیش کرے گی حکومت ان پر ایک ماہ کے اندر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔

پیر کو کمیٹی کا پہلا اجلاس آٹھ گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بتایا کہ کمیٹی کی کارروائی خفیہ ہوگی۔ تاہم ان کے مطابق ایسے معاملات جن کے بارے میں عوام کو آگہی دینا ضروری ہوگا وہ بتائے جائیں گے۔

وزیر نے بتایا کہ پارلیمان کی اس خصوصی کمیٹی نے سینیٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی کو متفقہ طور پر اپنا چیئرمین منتخب کیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس بیس نومبر کو دوبارہ ہوگا۔

وزیر کے مطابق پارلیمان کی اس خصوصی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ کسی بھی وزیر یا افسر کو طلب کرسکے اور کسی معاملے پر ان سے وضاحت طلب کر سکے۔

شیری رحمٰن نے بتایا کہ پارلیمان کی یہ خصوصی کمیٹی مختلف معاملات کی چھان بین اور تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹیاں بھی بناسکے گی۔ ان کے مطابق کوشش ہوگی کہ تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے جائیں اور اگر کسی معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا تو فیصلہ اکثریت رائے سے کیا جائے گا۔

ایک سوال پر وزیر اطلاعات نے بتایا کہ یہ کمیٹی قومی سلامتی کے بارے میں حکومت کوگائیڈ لائن فراہم کرے گی اور کمیٹی کے اراکین کسی بھی متاثرہ علاقے میں جا سکیں گے۔ ان کے مطابق کمیٹی خود مختار ہے اور کارروائی چلانے کے لیے اپنے قواعد و ضوابط بنائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کے لیے ایک تہائی اراکین کا موجود ہونا لازم ہوگا بصورت دیگر اجلاس ملتوی کیا جائے گا۔

وزیر کے مطابق کمیٹی کسی بھی شہر میں اپنا اجلاس منعقد کرسکے گی اور کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ منعقد ہوگا اور کمیٹی اپنی کارروائی سے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو وقت بوقت آگاہ کرتی رہے گی۔

واضح رہے کہ قومی سلامتی اور باالخصوص دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں متفقہ پالیسی بنانے کے متعلق گزشتہ ماہ پارلیمان کے بند کمرے میں کئی روز بحث کے بعد ایک متفقہ قرارداد منظور کرنے کے بعد یہ کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی میں پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔

اسی بارے میں
سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب
01 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد