BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 November, 2008, 01:23 GMT 06:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے اب ہی کیوں ہو رہے ہیں: فضل

مولانا فضل الرحمان: فائل فوٹو
جو حملے پچھلے چھ سالوں میں نہیں کیے گئے اب چار ماہ میں شروع کر دیے ہیں
جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں غیر ملکی جنگجو تھے تو امریکہ اور نیٹو نے پہلے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں اور اب جبکہ پاکستان میں سیاسی ہم آہنگی ہوئی ہے تو اچانک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔

کوئٹہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو کا یہ دعوی کہ پاکستان میں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں اب نیا نہیں ہے بلکہ بہت پرانا ہے لیکن اس وقت امریکہ یا نیٹو فوج نے کوئی کارروائی نہیں کی اور اب جبکہ پاکستان میں مذاکرات اور پارلیمان کے ذریعے معاملات طے کیے جا رہے ہیں توامریکہ نے ڈرونز کے ذریعے حملے شروع کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو حملے پچھلے چھ سالوں میں نہیں کیے گئے اب چار ماہ میں شروع کر دیے ہیں۔

یاد رہے گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی نے وفاق کے زیر انتطام قبائلی علاقوں خاص طور پر وزیرستان میں امریکہ اور نیٹو فوج کے حملوں کے خلاف ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے شمالی وزیرستان سے کچھ لوگ آئے اور کہا کہ تھوڑے عرصے میں اٹھارہ سے بیس حملے ہوئے ہیں اور ان حملوں میں ایک سو بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا ہے کہ جب لوگوں نے جنازے ادا کرنے روک دیے اور فوج کے دروازے پر لے گئے کہ ان میں جو غیر ملکی ہیں انھیں اٹھا لو وہ تمھارے جو ہمارے ہیں وہ واپس کر دو لیکن ان میں کوئی غیر ملکی نہیں تھا۔

مولانا فضل الرحمان نے پارلیمان سے مشترکہ طور پر منظور ہونے والی قرار داد کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ اس پر پیش رفت ہو رہی ہے ۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان اپنے آپ کو ایٹمی طاقت کہلواتا ہے تو کیا یہ ڈرونز کے حملے نہیں روک سکتا تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک کمزوری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے آئی ایم ایف سے مجبوری کے تحت قرض لینے کو حکمت عملی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ طویل مدتی نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے صوبہ سرحد میں آزاد پشتونستان کے لگے بورڈز پر تنقید کی تو کی صحافیوں نے کہا کہ یہ بورڈ یہاں بھی لگے ہیں اور آزاد بلوچستان کے نعرے لگائے جا رہے ہیں لیکن یہاں آپ کی حکومت اور خاص طور پر مولانا غفور حیدری خاموش ہیں تو انھوں نے کہا کہ ایک تو ان کی اس طرف توجہ نہیں دلوائی گئی ہوگی اور دوسرا یہ کہ کوئی کام تو آپ ( ذرائع ابلاغ ) لوگ بھی کریں۔

اسی بارے میں
’طاقت کا استعمال حل نہیں‘
26 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد