’طاقت کا استعمال حل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستانی فوج حکومت کی ہدایت پر ان علاقوں میں گئی ہے۔ اتوار کے روز دورہ چین میں ایشیاء یورپ کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی حکومت کی عملداری کو چیلنج کیا جائے گا وہاں پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں وہاں کے مقامی اور شدت پسندوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس ضمن میں قبائلی لشکر احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن ہوتے ہی فوج کو واپس بلالیا جائے گا۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور کسی کو بھی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افعانستان میں امریکی طیاروں کی طرف سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کا معاملہ انہوں نے ایشاء یورپ کانفرنس میں بھی اُٹھایا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دہشت گردی کی خلاف متفقہ قرارداد ایک تاریخی دستاویز ہے اور اس پر عملدرامد کیا جائے گا۔ ملک کی اقتصادی صوتحال کے بارے میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ فرینڈز آف پاکستان فورم نے اس حوالے سے پاکستان کی مدد کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک حالیہ عالمی بحران سے متاثر ہوئے ہیں انہیں عالمی مالیاتی اداروں سے رابطہ کرنا پڑے گا تاہم پاکستان بھی اس سے متاثر ہثوا ہے تاہم اس حوالے سے عالمی مالیاتی ادراوں سے امداد لینا قبل از وقت ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دورہ چین کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات ہوئی ہے جس میں دریائے چناب کے پانی کو روکنے کا معاملہ اُٹھایا گیا اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ بھارت سندھ طاس معائدے کی پاسداری کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت ہنگامی اقدامات کر رہی ہے تاہم بجلی کی قلت کو پورا کرنے میں وقت درکار ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سےپاکستان کی غیر تعلیم یافتہ افرادی قوت پر پابندی کا معاملہ صدر آصف علی زرداری سعودی حکام کے ساتھ اُٹھائیں گے۔واضح رہے کہ پاکستانی صدر 4 نومبر کو سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں فوج اپنے فرائض کو پہچانے: وزیر اعظم 29 May, 2008 | پاکستان ’آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا‘29 June, 2008 | پاکستان وزیرِ اعظم کی گاڑی پر حملہ03 September, 2008 | پاکستان پاکستان بھی جوہری معاہدہ کرے گا02 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||