BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 October, 2008, 18:41 GMT 23:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ متاثرین، بیماری میں اضافہ

ہسپتال
جمعہ کی دوپہر تک صرف ایک ہسپتال میں اڑھائی سو سے زیادہ مریض آئے
بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ زیارت کے قریبی علاقوں میں سخت سردی سے نمونیا، سینے اور پیٹ کی بیماریوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

زیارت کے ہسپتال، بنیادی صحت کے مراکز اور طبی کیمپوں میں بڑی تعداد میں مریض آئے ہیں۔ زیارت کے محکمہ صحت کے افسر ڈاکٹر ایوب نے بتایا ہے کہ ان کے پاس جمعرات کے روز ساڑھے چار سو سے زائد مریض آئے ہیں جونمونیا اور سینے کے دیگر امراض میں مبتلا تھے جبکہ جمعہ کی دوپہر تک صرف ایک ہسپتال میں اڑھائی سو سے زیادہ مریض آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان بیماریوں کے پھیلنے کی بنیادی وجہ شدید سردی اور خوراک کی کمی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ کھلے آسمانوں تلے پڑے ہیں۔ اس شدید موسم میں بچے اور خواتین بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

ادھر جن متاثرہ افراد کو امداد ملی ہے وہ اس کے معیار سے مطمئین نہیں ہیں۔

خانوزئی کے علاقے خوشاب اور زیارت کے قریب جندرہ کلی وام اور ورچون سے لوگوں نے بتایا ہے کہ جو خیمے انھیں فراہم کیے گئے ہیں وہ بہت ہلکے اور پتلے مواد سے بنے ہیں اور اس شدید سردی میں استعمال ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان خیموں کی موجودگی کے باوجود وہ لوگ باغات میں آگ جلا کر رات گزارتے ہیں۔

بلوچستان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں تیسرے روز بھی متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ تعداد ایک سو تریپن ہے جبکہ صوبائی وزیر مالیات کا کہنا ہے کہ دو سو پندرہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

زیارت سے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ زیارت کے قریب کواس یونین کونسل کے ہسپتال میں بیانوے لاشیں پہنچی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ دیگر علاقوں میں جو ہلاک ہونے والوں کی مقامی لوگوں نے خود کر دی تھی اس لیے ان کی تعداد کا علم نہیں ہے۔

 بلوچستان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں تیسرے روز بھی متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ تعداد ایک سو تریپن ہے جبکہ صوبائی وزیر مالیات کا کہنا ہے کہ دو سو پندرہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں

محکمہ داخلہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک سو تریپن افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

صوبائی وزیر مالیات زمرک خان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سو پندرہ ہے لیکن یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم بلوچستان کوارڈینیشن کونسل کے عہدیدار امیر محمد ترین نے بتایا ہے کہ ان کے کارکنوں نے دور دراز علاقوں کے دورے کیے ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق دو سو پینتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین سو تک ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بلوچستان میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے حکومت سے زیادہ سیاسی جماعتیں اور قریب واقع دیہاتوں کے مقامی لوگ متحرک ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے کوئٹہ کے علاوہ مختلف شہروں میں امدادی کیمپس لگائے ہیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی جمعیت علماء اسلام جماعت اسلامی مسلم لیگ اور دیگر تنظیموں کے علاوہ مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں امدادی اشیاء متاثرہ علاقوں میں بھجوائے ہیں۔

کوئٹہ میں لوگوں نے تیسری رات سڑکوں پر جاگ کر گزاری ہے۔ کئی خاندان ایسے تھے جنھوں نے رات ٹرکوں اور اپنی گاڑیوں میں گزاری۔

اسی بارے میں
شدید سردی، 200 ہلاکتیں
30 October, 2008 | پاکستان
جب زلزلہ آیا
30 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد