باؤچر اچانک اسلام آباد پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر سنیچر کو اچانک پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ باؤچر نے وزارت داخلہ کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر رحمٰن ملک سے ملاقات بھی کی ہے لیکن اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔ تاہم خیال ہے کہ ملاقات میں بات چیت کا محور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ ہی ہوسکتا ہے۔ امریکی سفارتخانے کے ترجمان لو فنٹر سے جب رچرڈ باؤچر کی اچانک پاکستان آمد اور مشیر داخلہ کے علاوہ دیگر حکام سے ملاقاتوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کوئی معلومات دینے سے معذوری ظاہر کرلی۔ تاہم سنیچر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب دورہ چین کے بارے میں نیوز بریفنگ دے رہے تھے تو اس دوران جب ان سے رچرڈ باؤچر کی آمد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ امریکہ دوست ملک ہے اور اس طرح کے دورے ہوتے رہتے ہیں۔ رچرڈ باؤچر ایسے وقت اچانک پاکستان پہنچے ہیں جب پارلیمان میں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے کے بارے میں بحث ہو رہی ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل جمیعت علماء اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ نے رچرڈ باؤچر کی پاکستان آمد سے محض ایک روز قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پالیسی تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے مختلف گروہوں پر مشتمل تحریک طالبانِ پاکستان، جسے حکومت کاالعدم قرار دے چکی ہے، کے مرکزی ترجمان مولوی محمد عمر نے چند روز قبل بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں اسلحہ چھوڑ کر حکومت سے بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ | اسی بارے میں اسلحہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں: عمر15 October, 2008 | پاکستان ’طالبان کی پیشکش سنجیدہ ہے‘ 17 October, 2008 | پاکستان خود کش حملہ حرام:فتویٰ تاخیر سے16 October, 2008 | پاکستان ایک سو اڑسٹھ غیرملکی گرفتار18 October, 2008 | پاکستان ’باؤچر کا بیان قابلِ اعتراض نہیں‘03 July, 2008 | پاکستان باؤچر کی نواز شریف سے ملاقات01 July, 2008 | پاکستان گیلانی اور رچرڈ باؤچر کی ملاقات30 June, 2008 | پاکستان باؤچرکی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں 25 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||