BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گزشتہ دس برس میں کرپشن زیادہ

پاکستان کے ترقیاتی بجٹ کا پندرہ فیصد پروکیورمنٹ میں کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔
پاکستان حکومتی اداروں میں ایماندارنہ اور شفاف طریقہ کار کے لحاظ سے مرتب کی گئی ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں ایک سو چونتسویں نمبر پر ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔ البتہ گزشتہ سال کی نسبت پاکستان میں اس سال کرپشن میں کمی واقعی ہوئی ہے اور وہ اس فہرست میں تین نمبر اوپر چلا گیا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشل دنیا بھر میں کرپشن اور بدعنوانی کی فہرست مرتب کرتے وقت مختلف ممالک کو شفاف حکومتی نظام اور کرپشن کے لحاظ سے ایک سے دس کے پیمانے پر جانچتا ہے۔ اس پیمانے پر سب سے کم نمبر لینے والے ملک کو دنیا کا کرپٹ ترین جب کہ زیادہ نمبر لینے والے کو شفاف ترین ملک قرار دیا جاتا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے سال دو ہزار آٹھ کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ اور عراق دنیا کے سب سے زیادہ کرپٹ ممالک میں سر فہرست ہیں جبکہ ڈنمارک، نیوزی لینڈ اور سویڈن ایسے ممالک ہیں جن میں کرپشن کی شرح سب سے کم ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑہتی ہوئی کرپشن اور غربت کا آزار انسانی فلاح و بہبود کے لیئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں بڑہتی ہوئی کرپشن سے غربت و مفلسی کے خلاف جنگ کو شدید نقصان پہننچے کا امکان ہے ۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کم کرنے کے لیئے ہر سطح پر سنجیدگی کے ساتھ قوائدوضوابط کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اور ہندوستان کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ دس سالوں نیں ہندوستان میں کرپشن کم ہوئی ہے، جتنی کرپشن کم ہوگی اتنی ہی معشیت بہتر ہوجائے گی۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کا حوالا دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن ہی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ ہے۔ شفافیت کی کمی اور کرپشن سے پروکیورمنٹ میں تاخیر ہوتی ہے جس سے پانی، بجلی، آبپاشی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے بنیادی ڈہانچے کی فراہمی میں قلت پیدا ہو رہی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر عالمی بینک اور منصوبہ بندی کمیشن حکومت پاکستان نے فروری دو ہزار آٹھ میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس بات کی توثیق اور تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان کے ترقیاتی بجٹ کا پندرہ فیصد پروکیورمنٹ میں کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا اس کے مقابلے میں دوسرے ممالک میں کمی ہوئی ہے اس وجہ سے پاکستان کی معشیت برے حالوں میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں کرپشن کی روک تھام کے لیئے اینٹی کرپشن، قومی احستاب بیورو سمیت کئی ادارے موجود ہیں مگر ان کو مشرف حکومت نے بھی اپنے ہی مقاصد کے لیئے ہی استعمال کیا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیئے آزاد عدلیہ کا قیام بھی ضروری ہے۔عدلیہ واحد جگہ ہے جہاں پر جاکر آدمی داد و فریاد کرتا ہے اگر وہاں حکومت کے من پسند لوگ بیٹھے ہیں تو وہاں کون جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق ہے اس لیئے اس پر لازم ہے کہ ایسے اداروں کی تشکیل کی جائے جو کرپشن کے خلاف جنگ اور کرپشن سے محفوظ رہنے کے لیئے اطمینان بخش ہوں۔

اسی بارے میں
نیب کے مقدمات کارروائی ملتوی
04 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد