BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2008, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد: حفاظتی اقدام کیلیے کمیٹی

اجلاس اسلام آباد میریٹ ہوٹل پر خود کش حملے کے بعد بلایا گیا ہے
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وفاقی داراحکومت اسلام آباد کو سکیورٹی کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کی دس رکنی کمیٹی بنانے کی منظوری دی ہے۔

یہ فیصلہ منگل کو وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا اور کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ تین روز کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔

کمیٹی کے سربراہ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمٰن ملک ہوں گے جبکہ، وزیر قانون فاروق نائک، سابق وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز، منصوبہ بندی کمیشن کے چئرمین سلمان فاروقی، کور کمانڈر راولپنڈی محسن کمال، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج، سکریٹری اطلاعات اکرم شہیدی، انٹیلی جنس بیورو اور ایف آئی اے کے سربراہان اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمینٹ اتھارٹی کے چئرمین اس کے رکن ہوں گے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت سکیورٹی ایجنسیز کو تمام وسائل اور عوام کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سانحوں کی صورت میں امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کرنے کے لیے عالمی معیار اپنایا جائے۔

پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ اعلیٰ سطح کے کسی اجلاس میں حکومت نے سابق وزرا اور بعض ریٹائرڈ افسران کو بھی مدعو کیا۔ اجلاس میں شریک سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے بتایا کہ انہوں نے کمیٹی میں شمولیت سے معذرت کرلی ہے۔

 آفتاب احمد شیر پاؤ
سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے بتایا کہ انہوں نے کمیٹی میں شمولیت سے معذرت کرلی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کمیٹی کے اراکین گیارہ بتائے گئے ہیں جس میں آفتاب احمد شیرپاؤ کا نام بھی شامل ہے۔

آفتاب احمد شیر پاؤ نے بتایا کہ انہوں نے سکریٹری اطلاعات سے کہا ہے کہ پریس نوٹ میں وضاحت کریں کہ وہ کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ سابق وزیر داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لیے تو مزید انتظامات سخت کیے جاسکتے ہیں لیکن اصل مسئلہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا ہے۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جیسا کہ صدر آصف علی زرداری کہہ چکے ہیں کہ پارلیمان کو بند اجلاس میں سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے، تو اس میں بحث کر کے راستہ بھی نکالا جاسکتا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں شامل کرنا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق سکریٹری داخلہ کمال شاہ نے میریٹ دھماکے کی ابتدائی تحقیقات کی رپورٹ اجلاس میں پیش کی اور خطرات کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس کے شرکاء کو انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے بھی بریف کیا اور اپنی اپنی سفارشات پیش کیں۔

اسی بارے میں
بال بچوں سمیت میریئٹ کی طرف
21 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد