’سترہویں ترمیم، 58 ٹو بی پر غور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نو منتخب صدر آصف علی زرداری نے حکومت سے کہا ہے کہ صدر کے اسمبلی توڑنے والے اختیارات سمیت سترہویں ترمیم پر نظر ثانی کے لیے تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائے۔ یہ بات انہوں نے سنیچر کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں کہی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبائی خود مختاری کے لیے اتفاق رائے قائم کریں اور صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے کے لیے آئین میں ترمیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے آمر حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے آئین میں ترامیم کی ہیں اور اب انہیں پارلیمان کو ختم کرنی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ بند کمرے میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قومی سلامتی کے بارے میں اراکین کو بریفنگ دیں تاکہ سب کو پتہ لگے کہ ملک کو کیا خطرات لاحق ہیں۔ آصف علی زرداری نے اپنی تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو خراج پیش کیا اور پہلی بار اتنے بڑے فورم پر میر مرتضی بھٹو کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آج مرتضیٰ بھٹو کی برسی ہے اور اس موقع پر انہوں نے جمہوریت کے لیے قربانی دینے اور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے جوانوں کے لیے اپنی تقریر روک کر دعائے مغفرت کرائی۔
آصف علی زرداری اپنی انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہوئے کچھ بار اٹکتے رہے۔ تاہم انہوں نے اپنی تقریر میں جہاں بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک سے پر امن تعلقات کے قیام پر زور دیا وہاں سیاسی مصالحت، اقتصادی بہتری اور دیگر معاملات پر حکومت سے کہا کہ وہ توجہ دے اور عوامی مسائل حل کرے۔ انہوں نے بھارت سے جامع مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے ذریعے تعلقات مستحکم کریں گے۔ ان کے مطابق حکومت منقسم کشمیر میں تجارت شروع کرنے کے لیے پہل کر رہی ہے اور دونوں ممالک میں عوامی رابطوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ صدر نے ویزا پابندیوں کو نرم کرنے پر بھی زور دیا۔ صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر اور انڈس واٹر سمیت بھارت کے ساتھ تمام تنازعات طے کرنے کے لیے پارلیمان کی متفقہ کمیٹی بنانے کی بھی تجویز دی، جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو اور یہ پیغام جائے کہ پوری قوم یک آواز ہے۔ آصف علی زرداری نے ایک موقع پر بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے بارے میں بینظیر بھٹو کا مقولہ پڑھا کہ ’ یہ وقت ہے نئی سوچوں کا۔۔ یہ وقت ہے بولڈ فیصلوں کا اور یہ وقت ہے عوام کے درمیان ایمانداری کا،۔ ان کے بقول انہیں ایک موقع پر ان کے نقادوں نے ایسی بات کہنے پر سیکورٹی رسک بھی قرار دیا۔ صدر کی تقریر کے دوران کئی بار پورے ایوان نے زوردار انداز میں ڈیسک بجا کر انہیں داد دی۔ بعض مواقع پر میاں نواز شریف نے بھی تالیاں بجائیں لیکن حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان اس بارے میں خاصے محتاط نظر آئے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ ’حکومت سے کہتا ہوں اپنی سرزمین کسی کو بھی دہشت گردی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ۔۔ ہم دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پر کسی طاقت کی جانب سے اپنی سرزمین کی خود مختاری سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے‘۔ آصف علی زرداری کی اس بات کو امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے اور انہوں نے یہ بات اپنے دورہ امریکہ سے محض چند روز قبل کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ جو شدت پسند حکومت کی رٹ کو چیلینج کریں اور سیکورٹی فورسز پر حملے کریں ان کے خلاف مکمل طاقت استعمال کریں۔ ان کے مطابق سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے حکومت کو بھرپور اقدامات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن کا مقرر کرکے انہوں نے میثاق جمہوریت پر عمل کیا ہے۔ ان کے مطابق احتساب کا متنازعہ ادارہ نیب ختم کیا جا رہا ہے اور ایک نیا طریقہ کار وضح کیا جائے گا۔ صدر نے کہا کہ آخر کار ملک میں جمہوریت بحال ہوئی ہے لیکن اب بھی کچھ عناصر اُسے پٹڑی سے اتارنا چاہتے ہیں اور سب کو ایسے عناصر سے خبردار رہنا ہوگا۔ انہوں اٹھارہ فروری کے انتخابی نتائج اور عوام کے فیصلے کا احترام کرنے پر زور دیا۔ ’جب کوئی موت کی کھولی سے اٹھ کر صدر بنا ہے ۔۔ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔۔ میں اس حکومت کے تعاون سے ملک کو اندھیروں سے نکالوں گا۔۔آئیے مل کر عہد کریں ہم پاکستان کو خوشحال اور مضبوط اور محفوظ بنائیں گے۔ | اسی بارے میں ’بش انتظامیہ کی سوچ پر افغان لابی حاوی‘18 September, 2008 | پاکستان حزب اختلاف کی شمولیت اچھا شگون ہے20 September, 2008 | پاکستان چارمزید ججوں نےحلف اٹھا لیا20 September, 2008 | پاکستان بش، من موہن سے ملاقاتیں متوقع19 September, 2008 | پاکستان مشترکہ پارلیمان سے صدر زرداری کا خطاب20 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||